ڈی ایس پی کے مطابق گروہ خاص طور پر رش والے بازاروں، ہفتہ وار مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کو نشانہ بناتا تھا، جہاں لین دین تیزی سے ہوتا ہے اور جعلی نوٹ فوری طور پر پکڑے جانے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
بزرگ دکاندار ان کے پسندیدہ اہداف میں شامل تھے، یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک دودھ فروش کو 500 روپے کا جعلی نوٹ ملا اور اس نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔
مزید پڑھیں: جعلی کرنسی کیس میں پولیس افسر محمد بلال قیوم کو سروس سے برطرف کردیا گیا
ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے 15 جون کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر دونوں کو گرفتار کر لیا۔
چھاپے کے دوران 500 روپے مالیت کے 15 جعلی نوٹ، جن کی مجموعی مالیت 7,500 روپے بنتی ہے، برآمد کیے گئے۔
پولیس اب اس نیٹ ورک کے حجم اور اس میں مزید افراد کے ملوث ہونے کے امکانات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
مزید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ راجیو ایک عادی مجرم ہے اور اس کے خلاف تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں قتل، اقدامِ قتل اور جعلی کرنسی سے متعلق 7 مقدمات درج ہیں۔