عراق کے مڈفیلڈر زیدان اقبال نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں میدان میں اتر کر تاریخ رقم کر دی اور مردوں کے فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پاکستانی نژاد پہلے کھلاڑی بن گئے۔
زیدان اقبال نے یہ اعزاز اس وقت حاصل کیا جب وہ بوسٹن کے فاکسبورو اسٹیڈیم میں ناروے کے خلاف گروپ میچ کے دوران 59ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے۔ اس میچ میں عراق کو ناروے کے ہاتھوں 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: میسی کی ہیٹرک کے ساتھ عالمی چیمپیئن ارجنٹینا کا ورلڈ کپ میں فاتحانہ آغاز
زیدان اقبال کے والد کا تعلق پاکستان جبکہ والدہ کا تعلق عراق سے ہے۔ سابق مانچسٹر یونائٹیڈ مڈفیلڈر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اسپورٹ کو انٹرویو میں بتایا کہ انہیں خود بھی اس تاریخی اعزاز کا علم نہیں تھا۔
Zidane Iqbal 🇮🇶 becomes the first player of Pakistani heritage to feature in a FIFA World Cup match. pic.twitter.com/SYFuq9afTV
— Abdul Rehman Yaseen (@Aryaseen5911) June 16, 2026
انہوں نے کہا کہ جب مجھے پتا چلا کہ میں مردوں کے ورلڈ کپ میں کھیلنے والا پہلا پاکستانی نژاد فٹبالر ہوں تو میں نے فوراً یہ خبر اپنے والد کو بھیجی۔ ہم دونوں ہی حیران تھے کیونکہ عراق کے ساتھ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرتے وقت میں نے کبھی اس بارے میں نہیں سوچا تھا۔
زیدان اقبال نے اپنے والد کو اپنی زندگی اور کیریئر کی اہم ترین شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والد پاکستان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے فٹبال کے سفر میں ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی۔
انہوں نے کہا کہ میں عراق کی نمائندگی کرتا ہوں، انگلینڈ میں پروان چڑھا ہوں، جبکہ میرے والد پاکستانی ہیں۔ اسی لیے مجھے اپنے خاندان کے پاکستانی پس منظر پر بھی فخر ہے۔
مزید پڑھیں: میسی نے ایک بار پھر سب کو پیچھے چھوڑ دیا، سالانہ 25 ملین ڈالر تنخواہ کا ریکارڈ قائم
ZIDANE IQBAL ON BEING FIRST PAKISTANI TO PLAY IN FIFA WC 🇵🇰
“I still watch Pakistan football. I’ve never visited Iraq, but I’ve been to Pakistan, the first time I went was for football. My dad sent me the post [about the first Pakistani player at WC], I was like Wow, it’s crazy” pic.twitter.com/RPUHHRNcKm
— U bad (@ubad433) June 9, 2026
عراقی مڈفیلڈر نے بتایا کہ وہ اپنے شوز پر عراق اور پاکستان دونوں کے جھنڈے لگاتے ہیں۔ ان کے بقول بائیں جانب عراقی اور دائیں جانب پاکستانی پرچم موجود ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی شناخت کے دونوں پہلوؤں کا یکساں احترام کرتے ہیں۔
زیدان اقبال کا کہنا تھا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ خود کو عراق یا پاکستان میں سے کس کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں تو وہ اس کا جواب نہیں دے پاتے، کیونکہ دونوں شناختیں ان کے لیے برابر اہمیت رکھتی ہیں اور وہ ان پر فخر کرتے ہیں۔














