روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر طنزیہ کارٹون بنانے کے لیے مشہور روسی آرٹسٹ کو پولینڈ کے مشرقی علاقے میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔
پروسی کی وزارتِ استغاثہ کے ترجمان مارسن کوزاک نے صحافیوں کو بتایا کہ 44 سالہ روسی شہری کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، جنہیں میڈیا میں سیمیون اسکریپٹسکی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ان کا اصل نام رابرٹ کوزوفکوف بتایا گیا ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں 2 بیلاروسی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاہ فام اسٹریٹ آرٹسٹ کے قتل کے الزام میں سابق امریکی فوجی پر فرد جرم عائد
پولیس کے مطابق یہ واقعہ مشرقی پولینڈ کے شہر بیالا پوڈلاسکا میں بیلاروسی قونصل خانے کے قریب پیش آیا۔
تاہم لُبلن پولیس کے ترجمان نائب انسپکٹر آندریج فیولیک نے کہا ہے کہ اصل حملہ آور کی تلاش اب بھی جاری ہے اور ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق نامعلوم مسلح حملہ آور نے فنکار کو پہلے 3 گولیاں ماریں، اور جب وہ زمین پر گر گئے تو قریب جا کر مزید 2 گولیاں چلائی گئیں۔
Russian artist who regularly mocked Putin is shot dead in Poland in 'execution.' pic.twitter.com/Mp54Bxg2aZ
— Daily Mail (@DailyMail) June 16, 2026
پولینڈ حکومت کے ترجمان آدم شلاپکا نے کہا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور مذکورہ آرٹسٹ کو پہلے سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔
واقعے کے بعد پولش میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مقتول کے اہلِ خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: معروف آرٹسٹ ’بینکسی‘ کا فن پارہ یوکرین کی دیوار سے ’ڈاک ٹکٹ ‘ تک
حکام کے مطابق ابھی تک کسی پر باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، اور گرفتار شدہ دونوں بیلاروسی شہری تفتیشی اداروں کی تحویل میں ہیں۔
یہ واقعہ پولینڈ اور روس کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جو پہلے ہی گزشتہ سال پولینڈ کی حدود میں ڈرون گرنے کے واقعات کے بعد کشیدہ ہے۔

پولینڈ کی قومی سلامتی بیورو کے سربراہ بارٹوش گروڈیسکی نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ قتل سیاسی نوعیت کا ہے تو یہ روس کی سرحدوں سے باہر کارروائیوں کی ایک نئی شکل ہوگی۔
سیمیون اسکریپٹسکی اپنے متنازع اور طنزیہ کارٹونز کی وجہ سے مشہور تھے، جن میں انہوں نے ولادیمیر پیوٹن، سوویت رہنما جوزف اسٹالن، اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی اور چیچن رہنما رمضان قادیروف جیسے اہم
شخصیات کو نشانہ بنایا تھا۔














