بھارتی ٹی وی اداکارہ سنچیتا اوگلے 22 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
پولیس نے اس واقعے کا حادثاتی موت ما مقدمہ درج کر لیا ہے اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
سنچیتا اُگلے نے کُمکم بھگیہ میں دیا تندن کے کردار سے شہرت حاصل کی۔ وہ ’واگلے کی دنیا، نئی پیڑھی نئے قصے‘ میں بھی نظر آئیں اور بعد ازاں انہوں نے ڈرامہ ’دل والی دلہنیا لے جائے گی‘ میں مرکزی کردار ادا کیا۔
View this post on Instagram
ٹیلی ویژن کے علاوہ انہوں نے فلمی دنیا میں بھی کام کیا اور وکی کوشل کی فلم ’چھاوا‘ میں تارا رانی کے کم عمر کردار کو نبھایا۔ وہ منوج باجپائی کے ساتھ تھرلر ’سائلنس 2: دی نائٹ آؤل بار شوٹ آؤٹ‘ میں بھی نظر آئیں۔
اگرچہ ان کے والد نے واقعے پر کسی شبہے کا اظہار نہیں کیا تاہم ان کے کزن آکاش ستیش اُگلے نے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے سے کچھ دن پہلے اداکارہ پریشان دکھائی دیتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفات سے پہلے حمیرا اصغر نے اپنے مداحوں کے لیے کیا پیغام دیا؟
آکاش نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایک ایسا انسٹاگرام اکاؤنٹ ملا ہے جس کی پروفائل تصویر میں سنچیتا اُگلے کی تصویر موجود تھی اور انہوں نے پولیس سے درخواست کی کہ اس اکاؤنٹ کے کردار اور ممکنہ تعلقات کی جانچ کی جائے۔ انہوں نے اتوار کے روز اپ لوڈ کی گئی ایک ریل کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس اکاؤنٹ کی سرگرمیوں کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔
کزن نے یہ بھی اشارہ کیا کہ اداکارہ کی وفات کی تاریخ اور 2020 میں اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی وفات کی تاریخ میں مماثلت پائی جاتی ہے تاہم پولیس نے دونوں واقعات کے درمیان کسی بھی تعلق کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ثبوت سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان پنجابی گلوکارہ کا لرزہ خیز قتل، لاش نہر سے برآمد
آکاش نے یہ بھی کہا کہ غیر فلمی پس منظر سے آنے والے نوجوان اداکار انڈسٹری میں شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور ممکن ہے سنچیتا اُگلے بھی اسی دباؤ سے متاثر ہوئی ہوں۔ انہوں نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اداکارہ کی آخری انسٹاگرام پوسٹ موت کی خبر سامنے آنے سے چند گھنٹے قبل شیئر کی گئی تھی اس میں سنچیتا کو گلابی رنگ کے لباس میں گانے ’ڈفلی والے ڈفلی بجا پر‘ لپ سنک کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
View this post on Instagram
پوسٹ کے کمنٹس سیکشن میں مداحوں نے گہرے دکھ اور حیرت کا اظہار کیا ہے جبکہ پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔














