پاکستان نے وہ کر دکھایا جو بڑی عالمی طاقتیں نہ کر سکیں، جنیوا معاہدہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، طارق چوہدری

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف صحافی و تجزیہ کار طارق چوہدری نے کہا ہے کہ جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک تاریخی سفارتی پیشرفت ہے جسے آنے والے برسوں میں دنیا یاد رکھے گی۔

وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے صرف چند ماہ کے عرصے میں ایسے 2 ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جو گزشتہ 47 برس سے ایک دوسرے کے شدید مخالف اور محاذ آرائی کی کیفیت میں تھے۔

مزید پڑھیں: سید عاصم منیر نے بغیر لڑے جنگ جیتی، پاکستان امریکا اور ایران کا معاہدہ نہ کرواتا تو مسلم امہ کے اندر لڑائی ہوتی، سیکیورٹی ذرائع

طارق چوہدری نے کہاکہ معاہدے کی بنیادی تفصیلات پہلے ہی طے ہو چکی ہیں اور سوئٹزر لینڈ میں دراصل اس کی باضابطہ تقریب منعقد ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان اور اہم شخصیات اس تقریب میں شرکت کریں گی جبکہ اس کی میزبانی پاکستان کے لیے ایک بڑے اعزاز کی حیثیت رکھتی ہے۔

’معاہدہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا‘

طارق چوہدری نے کہاکہ جس طرح تاریخ میں اوسلو معاہدہ، کیمپ ڈیوڈ معاہدہ اور دیگر اہم سفارتی پیش رفتوں کو یاد رکھا جاتا ہے، اسی طرح اس معاہدے کو بھی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

طارق چوہدری کے مطابق ایران اور امریکا گزشتہ 47 برس سے شدید اختلافات اور کشیدگی کا شکار تھے۔ ایک طرف ایران میں ’مرگ بر امریکا‘ کے نعرے لگتے رہے جبکہ دوسری جانب امریکا ایران کو ’ایول ایمپائر‘ قرار دیتا رہا، لیکن ان دونوں انتہاؤں کے درمیان پاکستان نے چند ماہ کے اندر وہ کام کر دکھایا جسے وہ سفارتی کرشمہ قرار دیتے ہیں۔

’پاکستان نے وہ جنگ ختم کرائی جسے دنیا نہ روک سکی‘

سینیئر صحافی نے کہاکہ دنیا نے روس یوکرین جنگ سمیت متعدد طویل تنازعات دیکھے ہیں جنہیں عالمی طاقتیں، اقوام متحدہ، جی سیون اور دیگر بین الاقوامی فورمز بھی ختم نہ کرا سکے، لیکن پاکستان نے ایک ایسے تنازعے کے خاتمے میں کردار ادا کیا جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ وسیع تر جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب یہ کشیدگی شروع ہوئی تو خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ یہ تنازع عالمی جنگ یا مسلم ممالک کے درمیان بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہے، تاہم پاکستانی قیادت نے صورتحال کو اس نہج تک پہنچنے سے روک دیا۔

’پاکستانی قیادت کا کردار‘

طارق چوہدری نے اس پیشرفت کا کریڈٹ پاکستانی قیادت کو دیتے ہوئے کہاکہ اس عمل میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور محسن نقوی سمیت پوری ٹیم نے کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ اس سفارتی سفر میں کئی مواقع ایسے آئے جب امید ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی، کبھی معاہدہ قریب نظر آیا اور پھر تعطل پیدا ہوگیا، کبھی جنگ بندی ہوئی اور پھر کشیدگی بڑھنے لگی، لیکن تمام مراحل سے گزرنے کے بعد مذاکرات کو کامیابی سے منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔

’جنگ بندی سے مستقل امن تک کا سفر‘

طارق چوہدری نے کہاکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے 4 بڑے مقاصد تھے۔ پہلا مقصد جنگ رکوانا، دوسرا جنگ بندی کروانا، تیسرا جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا اور چوتھا مسلم ممالک کو آپس میں تصادم سے بچانا تھا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے نہ صرف متحارب فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کیا بلکہ سعودی عرب، قطر، کویت اور دیگر ممالک کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ ان کے مطابق متعدد اشتعال انگیزیوں کے باوجود سعودی عرب نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس پورے عمل میں پاکستان نے اہم رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔

’پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکیہ کا ممکنہ اتحاد‘

طارق چوہدری نے کہا کہ اس معاہدے کا سب سے بڑا سفارتی فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکیہ کے درمیان ایک نئے تزویراتی اتحاد کی بنیاد پڑ جائے۔

انہوں نے کہاکہ اگر یہ اتحاد تشکیل پاتا ہے تو اس میں تیل سے مالا مال ممالک بھی شامل ہوں گے، پاکستان جیسی ایٹمی طاقت بھی موجود ہوگی اور خطے میں ایک نئی سفارتی و معاشی قوت ابھر سکتی ہے۔

’عالمی منڈیوں کو کھربوں ڈالر کا فائدہ‘

طارق چوہدری نے کہاکہ مذاکرات کے ایک مرحلے کے اختتام پر دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں میں مثبت ردعمل سامنے آیا اور عالمی مارکیٹوں کو کھربوں ڈالر کا فائدہ پہنچا۔

انہوں نے کہاکہ بعض لوگ پاکستان کے کردار کو کم اہم قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے مذاکرات کو ابتدا سے انجام تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور میزبان ملک ہونے سے کہیں بڑھ کر ذمہ داریاں نبھائیں۔

’پاکستان کو ممکنہ معاشی فوائد‘

انہوں نے کہاکہ اس معاہدے کے بعد پاکستان کو متعدد معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی سلامتی کی صورتحال بہتر ہوگی اور دہشتگردی کے خدشات میں کمی آئے گی۔

طارق چوہدری نے کہاکہ اگر ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا، پاکستان سستے ذرائع سے تیل حاصل کر سکے گا اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر پیشرفت کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

ان کے مطابق توانائی کے شعبے میں بہتری پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہوسکتی ہے۔

’گلگت بلتستان میں حکومت سازی‘

گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے طارق چوہدری نے کہاکہ ان کے خیال میں وہاں حکومت پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کے اشتراک سے بنے گی۔

انہوں نے کہاکہ آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد سیاسی صورتحال تبدیل ہوئی ہے اور مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد تینوں جماعتوں کے پاس حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہو سکتی ہے۔

’پیپلز پارٹی سسٹم سے الگ نہیں ہوگی‘

پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ان کے نزدیک پیپلز پارٹی موجودہ نظام کی شریک کار ہے اور اس کے پاس مختلف سطحوں پر سیاسی اور آئینی کردار موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں اپنے مطالبات منوانے کے لیے مختلف سیاسی حربے استعمال کرتی ہیں، تاہم انہیں نہیں لگتا کہ پیپلز پارٹی موجودہ نظام سے الگ ہونے کا کوئی فیصلہ کرے گی۔

’معیشت درست سمت میں گامزن ہے‘

طارق چوہدری نے کہاکہ موجودہ حکومت نے معیشت کی سمت درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، پالیسی ریٹ کم ہوا ہے اور ڈالر کی قدر میں استحکام پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ معیشت کی بحالی ایک طویل عمل ہوتا ہے اور کوئی بھی معیشت راتوں رات بہتر نہیں ہوتی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو پاکستان کو مزید معاشی ریلیف مل سکتا ہے۔

’آزاد کشمیر میں احتجاج اور انتخابات‘

آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے طارق چوہدری نے کہا کہ ان کے مطابق چند ہزار افراد احتجاج میں شامل ہیں، جن میں مٹھی بھر عناصر احتجاج کو شدت پسندانہ رخ دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ انتخابات ہونے چاہییں اور تمام فیصلے جمہوری عمل کے ذریعے ہونے چاہییں۔

طارق چوہدری نے کہا کہ انتخابات کے شیڈول میں معمولی ردوبدل یا کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع ممکن ہو سکتی ہے، تاہم انہیں نہیں لگتا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی موجودگی میں انتخابات مؤخر کیے جائیں گے۔

’مہاجر نشستوں کا معاملہ سیاسی و آئینی فورم پر حل ہونا چاہیے‘

انہوں نے کہا کہ ابتدائی عوامی مطالبات کے بعد اب سامنے آنے والے بعض مطالبات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ ان کے مطابق مہاجر نشستوں سے متعلق اگر کسی کو اعتراض ہے تو اس کا فیصلہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور متعلقہ آئینی فورمز کو کرنا چاہیے۔

طارق چوہدری نے کہا کہ کسی طبقے یا گروہ کی نمائندگی عوامی دباؤ یا ہجوم کے ذریعے ختم نہیں کی جا سکتی اور اس حوالے سے قانونی و آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

’دہشتگردی کے پیچھے بھارتی پراکسیز کارفرما ہیں‘

دہشتگردی کی حالیہ لہر سے متعلق سوال کے جواب میں طارق چوہدری نے کہا کہ ان کے نزدیک بعض دہشتگرد گروہوں کے پیچھے بھارتی پراکسیز کارفرما ہیں اور اس حوالے سے مختلف شواہد موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا معاہدہ: تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی، مارکیٹ کو آبنائے ہرمز کی بحالی کا انتظار

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں اور اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر ملک کا دفاع کر رہی ہیں۔

طارق چوہدری نے کہاکہ پاکستان کے عوام دہشتگردی کے خلاف اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دہشتگرد عناصر کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp