کانگو کے مشرقی علاقوں میں ایبولا کی وبا سے نمٹنے والی طبی ٹیموں کو عملے، ایمبولینسوں اور آئسولیشن وارڈز کی تعمیر کے لیے بنیادی تعمیراتی سامان کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث وبا پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہورہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک ماہ قبل بین الاقوامی ایمرجنسی کے اعلان کے بعد بنڈی بوجیو قسم کے ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 800 سے تجاوز کرچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایبولا کا شکار امریکی ڈاکٹر صحت یاب، کانگو میں متاثرہ افراد کی تعداد 488 تک پہنچ گئی
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ وبا 2014 سے 2016 کے مغربی افریقہ کے ایبولا بحران سے بھی سنگین شکل اختیار کرسکتی ہے، جس میں 11 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر جنرل ژاں کاسییا کے مطابق سیکیورٹی خدشات، شہری آبادی اور کان کنی و تجارتی سرگرمیوں کے باعث ہزاروں ایسے افراد تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی جو متاثرہ مریضوں کے رابطے میں آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے مریض اسپتالوں سے فرار ہوجاتے ہیں، جبکہ کئی متاثرہ افراد کو اسپتالوں میں داخل ہی نہیں کیا جاسکا، بعض مریضوں کو مناسب طبی سہولیات اور نگہداشت بھی میسر نہیں آرہی۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ایتوری میں 14 جون تک مشتبہ نئے کیسز سے متعلق موصول ہونے والی 241 اطلاعات میں سے تقریباً ایک تہائی پر کارروائی نہیں کی جاسکی۔
یہ بھی پڑھیں: ایبولا وائرس پھیلنے کا خطرہ، یو اے ای نے 3 ممالک کے شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کردیں
امدادی تنظیم آکسفیم کے ایبولا رسپانس کوآرڈی نیٹر مانیل ریبورڈوسا نے بتایا کہ بونیا کے ایک طبی مرکز میں بخار اور خون بہنے کی علامات والی ایک خاتون کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا کیونکہ نگرانی کے نظام کے پاس متعدد علاقوں کے لیے ناکافی ایمبولینسیں موجود ہیں۔
افریقہ سی ڈی سی کے مطابق ایتوری میں محفوظ تدفین اور آلودگی ختم کرنے والی ٹیموں کے پاس مطلوبہ عملے کا صرف 15 فیصد اور ضروری گاڑیوں کا محض 7 فیصد حصہ موجود ہے۔
کانگو کے وزیر صحت سیموئیل راجر کامبا نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ وبا قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے 1 ہزار 200 کمیونٹی کارکنوں کو تربیت دی ہے، جن میں سے 1 ہزار کو گھروں تک جا کر مشتبہ کیسز اور متاثرہ افراد کے رابطوں کی نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حفاظتی لباس، ماسک، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری وسائل کی شدید کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بنڈی بوجیو قسم کے ایبولا کے لیے تاحال کوئی مؤثر ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں، جبکہ متعدد طبی کارکن بھی اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایبولا کے پھیلاؤ کے باوجود جنگلی جانوروں کا گوشت مقبول، ماہرین نے بیماری کے ممکنہ تعلق پر تشویش ظاہر کر دی
افریقی یونین کے مطابق ایبولا کے خلاف 518 ملین ڈالر کے منصوبے کے لیے اب تک مطلوبہ فنڈنگ کا صرف پانچواں حصہ ہی حاصل ہو سکا ہے، جبکہ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایبولا وباؤں کے مقابلے میں عالمی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔














