امریکا نے خطے میں اپنی سب سے اہم اور سب سے بڑی فوجی کمان کا نام تبدیل کرتے ہوئے ’امریکی انڈو-پیسیفک کمانڈ‘ کو تبدیل کرتے ہوئے پرانے نام ’امریکی پیسیفک کمانڈٔ‘ پر بحال کر دیا ہے۔
امریکا کے اس اچانک فیصلے کے بعد بھارت کے سیاسی، دفاعی اور اسٹرٹیجک حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور اسے مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
U.S. Pacific Command…is back. pic.twitter.com/wDaDzbLJ81
— Pete Hegseth (@PeteHegseth) June 17, 2026
امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوجی کمان کو اس کے تاریخی نام پر واپس لایا جا رہا ہے، جس کے تحت یہ کمان 7 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کام کرتی رہی تھی۔
2018 میں ٹرمپ نے نام تبدیل کیا تھا
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں، 2018 کے دوران امریکا کی’پیسیفک کمانڈ‘ کا نام تبدیل کر کے ‘انڈو-پیسیفک کمانڈ‘ رکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کا ایک اور فالس فلیک ڈرامہ بے نقاب، مودی سرکار اور گودی میڈیا تذبذب کا شکار
اُس وقت واشنگٹن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بحرِ ہند کی بڑھتی ہوئی اسٹرٹیجک اہمیت اور بحرالکاہل کے سیکیورٹی ماحول کے گہرے تعلق کے پیشِ نظر یہ تبدیلی ناگزیر ہے۔
اس اقدام کو بھارت کی بڑھتی ہوئی علاقائی اہمیت اور امریکا، بھارت دفاعی شراکت داری کی ایک بڑی علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
پینٹاگون کا مؤقف ’صرف تاریخی نام کی بحالی ہے
امریکی دفاعی حکام کے مطابق موجودہ فیصلے کا مقصد کمان کی تاریخی شناخت اور ورثے کو بحال کرنا ہے۔ یہ کمان یکم جنوری 1947 کو اُس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی اور دہائیوں تک اسی نام سے جانی جاتی رہی۔
پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ نام کی تبدیلی سے کمان کے اختیارات، آپریشنل دائرہ کار یا ذمہ داریوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اس کی حدود امریکی مغربی ساحل سے لے کر بھارت کی مغربی سرحد تک کے وسیع علاقے پر برقرار رہیں گی۔
بھارتی اپوزیشن کی مودی حکومت پر کڑی تنقید
امریکی فیصلے کے سامنے آتے ہی بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت ’کانگریس‘ نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
مزید پڑھیں:روس سے تیل کی خریداری امریکا اور بھارت کے تعلقات میں ’چبھتا ہوا نکتہ‘ بن چکا، مارکو روبیو
کانگریس کا کہنا ہے کہ 2018 میں جب کمان کا نام ’انڈو-پیسیفک‘ ہوا تھا، تو بی جے پی حکومت نے اسے مودی کی ایک عظیم سفارتی کامیابی اور ان کی عالمی مقبولیت کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ اب جبکہ امریکا نے خاموشی سے ’انڈو‘ کا لفظ ہٹا دیا ہے، تو مودی حکومت نے چپ سادھ لی ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ مودی حکومت امریکا کے سامنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ششی تھرور کا اہم سوال اور’کواڈ‘ کا مستقبل
کانگریس کے سینیئر رہنما اور ماہرِ خارجہ امور ششی تھرور نے اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’ ’کیا یہ فیصلہ ’کواڈ‘اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا؟‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’کواڈ کے تابوت میں ایک اور کیل‘ ٹھونک دی گئی۔
One more nail in the coffin of the Quad? https://t.co/7QauDO0a3s
— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) June 17, 2026
یاد رہے کہ کواڈ (بھارت، امریکا، جاپان اور آسٹریلیا کا اتحاد) بحرِ ہند اور بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور نام کی یہ تبدیلی اس اتحاد کی ترجیحات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
خطے کا توازن بدلنے کا خدشہ
معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے اس فیصلے کو نئی دہلی کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ اس سے واضح تاثر ملتا ہے کہ امریکا اب ایشیا-بحرالکاہل خطے میں بھارت کو پہلے جیسی اسٹرٹیجک اہمیت نہیں دے رہا۔
ان کے مطابق اس کا فائدہ چین اور پاکستان کو ہو سکتا ہے، جس سے جنوبی ایشیا کے معاشی اور عسکری توازن پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اگرچہ واشنگٹن اسے محض ایک انتظامی اور تاریخی نام کی بحالی قرار دے رہا ہے، لیکن نئی دہلی کے مبصرین اسے ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بدلی ہوئی ترجیحات کا اشارہ سمجھ رہے ہیں۔














