امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی اور سیکیورٹی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت اس منظرنامے کے بالکل برعکس ہے جس سے نیتن یاہو طویل عرصے سے خدشات کا شکار تھے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط
سی این این کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کی رات اپنی سکیورٹی کابینہ کے ساتھ ایک بنکر میں ہنگامی اجلاس جاری رکھا ہوا تھا جب امریکی صدر ٹرمپ کا فون آیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت سے آگاہ کیا اور یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے۔ سی این این کے مطابق یہ پیش رفت نیتن یاہو کے لیے غیر متوقع اور انتہائی تشویشناک تھی، کیونکہ اس معاہدے میں ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے نے اسرائیل کی اس حکمت عملی کو براہ راست متاثر کیا ہے جس کا مقصد ایران کو عسکری اور معاشی طور پر دباؤ میں رکھنا تھا۔ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں جیسے حساس امور کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، جسے اسرائیل اپنے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔
نیتن یاہو نے معاہدے پر اپنے ابتدائی ردعمل میں محتاط رویہ اختیار کیا اور اپنی پریس کانفرنس میں اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کی۔ سی این این کے مطابق انہوں نے ٹرمپ کا ذکر بھی محدود انداز میں کیا، جو ان کے روایتی بیانیے کے برعکس تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران کے 300 ارب ڈالر فنڈ تک رسائی اچھے رویے سے مشروط کر دی
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاسی حلقوں میں اس معاہدے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض وزراء اور سابق فوجی حکام نے اسے اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے کی کوشش ہے۔
سی این این کے مطابق یہ پیش رفت نیتن یاہو اور ٹرمپ کے تعلقات میں ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے اثرات آنے والے اسرائیلی انتخابات اور خطے کی مجموعی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔













