سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خواتین کے پولیس فورس میں شمولیت سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
فواد چوہدری نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ خواتین پولیس آفیسر بننے کا انتخاب کیوں کر رہی ہیں؟ ان میں سے اکثر بطور پولیس آفیسر بالکل بے کار ہیں اور اس شعبے کا انتخاب برا بھی ہے۔
Why women are opting to become police officers? Most of them are completely useless as cops, also it’s terrible career choice even otherwise…. https://t.co/Kd1cfDuWEA
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) June 16, 2026
ان کے اس بیان پر صحافیوں، سماجی شخصیات اور صارفین کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔ معروف صحافی حامد میر نے اسے ’مردانہ تعصب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے ہی پاکستانی مردوں کو خواتین سفیروں کے سامنے جھکتے دیکھا ہے۔
This is called Male chauvinism. Some men believe that they are naturally superior to women in intelligence, ability, or importance. I have seen same kind of Pakistani men bowing down in front of female diplomats. https://t.co/7nADSeagCs
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) June 16, 2026
فواد چوہدری نے جواب میں کہا کہ ان کی مراد یہ تھی کہ باصلاحیت خواتین کو سائنس دان یا کاروباری شخصیت بننا چاہیے بجائے اس کے کہ وہ طاقت کے شوق میں اپنا ٹیلنٹ ضائع کریں اور ان کی رائے میں پولیس کو زیادہ قابل افراد کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے زیادہ قابل لوگوں کو بے کار پیشوں کا انتخاب کرنے کی ترغیب دینا حماقت ہے۔
This is not chauvinism, you made statement without understanding what I said Most capable of the lot should choose to be scientist or entrepreneur instead of wasting talent for lust of power.. cops doesn’t need to be very capable…. Encouraging most capable people to opt for… https://t.co/nx6MrnwhkT
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) June 16, 2026
No matter what the intention was, it is derogatory towards her and the profession. For diversity and inclusive society, it’s important for women to be in all sphere of professions and especially in police! https://t.co/s0Ql2vU4qP
— Dr Maheera Ghani (@MaheeraGhani) June 16, 2026
عمر چیمہ نے کہا کہ کائنات ایک باصلاحیت اور پراعتماد افسر نظر آتی ہیں۔ انہیں فواد چوہدری یا کسی اور کی توثیق کی ضرورت نہیں، بالکل اسی طرح جیسے یونیفارم میں خدمات انجام دینے والی کسی بھی خاتون کو کسی کی منظوری درکار نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ خواتین پولیس فورس کا حصہ کیوں بنتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ بعض سیاستدان اپنی زبان پر قابو کیوں نہیں رکھ پاتے۔
Kainat looks a capable and confident officer. She doesn’t need Fawad Chaudhry’s approval, and neither does any other woman who chose to serve in uniform. The question isn’t why women become cops. The question is why some politicians can’t control their tongue. pic.twitter.com/QCwIoFFHAZ
— Umar Cheema (@UmarCheema1) June 16, 2026
فواد چوہدری کی جانب سے وضاحت جاری کیے جانے کے باوجود سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ان کے اس تبصرے پر تنقید کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ نیت کچھ بھی رہی ہو، یہ بیان نہ صرف متعلقہ خاتون کے لیے بلکہ پورے پیشے کے لیے توہین آمیز ہے۔ ایک متنوع اور جامع معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ خواتین ہر شعبے میں بھرپور شرکت کریں، خصوصاً پولیس فورس جیسے اہم اور ذمہ دار ادارے میں جہاں ان کی موجودگی انصاف اور نمائندگی کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
No matter what the intention was, it is derogatory towards her and the profession. For diversity and inclusive society, it’s important for women to be in all sphere of professions and especially in police! https://t.co/s0Ql2vU4qP
— Dr Maheera Ghani (@MaheeraGhani) June 16, 2026
ایک اور صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مرد سیاستدان بننے کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں؟ ان میں سے زیادہ تر بطور سیاست دان بالکل بے کار ہیں اور اس شعبے کا انتخاب برا بھی ہے۔














