اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ آج سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اشٹوک میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا متوقع دورہ فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔
سوئس وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے سلسلے میں امریکا اور ایران کے مندوبین برگن اشٹوک میں ملاقات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ کروا کر پاکستان نے دنیا کو کتنے بڑے نقصان سے بچایا ہے؟
اس موقع پر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی موجود ہوں گے۔
سوئس حکام نے ملاقات کی نوعیت، شرکا کی سطح اور ایجنڈے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ تازہ اعلامیے میں دیگر ممالک کی شرکت سے متعلق حوالہ بھی شامل نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اب آج رات سوئٹزرلینڈ روانہ نہیں ہوں گے۔
The White House said Thursday night that Vice President JD Vance was delaying a trip to Switzerland to lead a new round of negotiations with Iran over its nuclear program — raising questions about what's next for the tentative agreement to end the war. https://t.co/jIX4hBpk49
— The Associated Press (@AP) June 19, 2026
ترجمان کے مطابق مذاکرات کے اگلے مرحلے سے متعلق تکنیکی امور اور انتظامی تفصیلات ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکیں، جس کے باعث سفر مؤخر کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی وفد روانگی کے لیے تیار ہے اور جیسے ہی مناسب انتظامات مکمل ہوں گے، وفد فوری طور پر روانہ ہو سکتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا جلد از جلد تکنیکی مذاکرات کے آغاز کا خواہاں ہے۔
اس سے قبل جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ وہ سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم روانگی کے وقت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تکنیکی مذاکرات ہفتے کے اختتام پر شروع ہونے کی توقع ہے اور وہ امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق یہ یادداشت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔













