سنٹرل پارک میں ایک گھوڑا گاڑی سے چھلانگ لگانے کے بعد بھارتی نژاد 18 سالہ نوجوان کی ہلاکت نے شہر کی تاریخی گھوڑا گاڑیوں پر پابندی کے مطالبات کو تیز کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی نوجوان اس وقت جان کی بازی ہار گیا جب وہ ایک ایسی گھوڑا گاڑی سے اتر گیا جو ڈرائیور کے بغیر اچانک پارک میں تیزی سے دوڑنے لگی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نیو یارک: وفاقی حکام کی جانب سے سٹی کونسل ملازم کی گرفتاری، میئر ظہران ممدانی کا شدید ردعمل
یہ واقعہ مبینہ طور پر سنٹرل پارک میں گھوڑا گاڑیوں کے متعارف ہونے کے 150 سال سے زائد عرصے میں پہلی ہلاکت قرار دیا جا رہا ہے۔ سنٹرل پارک کنزروینسی اور جانوروں کے حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس صنعت کو فوری طور پر معطل کیا جائے جب تک مزید حفاظتی اقدامات نافذ نہ کیے جائیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 13 ماہ میں پارک میں گھوڑوں سے متعلق آٹھ واقعات پیش آ چکے ہیں۔
جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ گھوڑا گاڑیاں نہ صرف جانوروں پر غیر ضروری دباؤ کا باعث بنتی ہیں بلکہ شہری ماحول میں حفاظتی خطرات بھی پیدا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیو یارک میں امریکی صدر ٹرمپ کی وجہ سے فرانسیسی صدر کی گاڑی روک دی گئی، دلچسپ ویڈیو وائرل
دوسری جانب گھوڑا گاڑی انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو مکمل پابندی کی بجائے بہتر حفاظتی اقدامات اور مؤثر قواعد و ضوابط کا جواز بننا چاہیے۔
ٹرانسپورٹ ورکرز یونین نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تمام اصطبل عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں اور حفاظتی پروٹوکولز پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت گھوڑا گاڑی کا ڈرائیور مسافروں کی تصویر لینے کے لیے نیچے اترا ہوا تھا، جس کے باعث گھوڑا اچانک بے قابو ہو گیا۔
متاثرہ نوجوان اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تعلیمی سفر کے دوران نیویارک آیا تھا اور حال ہی میں یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کیا تھا۔
نیویارک سٹی کونسل نے اس واقعے کے بعد گھوڑا گاڑیوں پر پابندی کے مجوزہ بل پر جلد سماعت کا اعلان کیا ہے جبکہ شہر کے موجودہ اور سابق میئرز بھی اس صنعت کے مستقبل پر نظرثانی کے حق میں بیانات دے چکے ہیں۔














