مصنوعی ذہانت سے انسانی نسل کی بقا کو خطرہ، گوگل ڈیپ مائنڈ کا انتباہ

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف AI ریڈی نس آفیسر لیلیٰ ابراہیم نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے نتیجے میں انسانی نسل کے خاتمے کا امکان ’صفر‘ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار پیشرفت کے مدنظر اس سے جڑے وجودی خطرات پر خاموش رہنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔

گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف AI ریڈی نس آفیسر لیلیٰ ابراہیم نے ایک انٹرویو میں مصنوعی ذہانت کے باعث انسانیت کے وجود کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے AI کے ذریعے انسانی نسل کی تباہی کے فیصد پر حتمی پیشگوئی کرنے سے تو گریز کیا، لیکن اس خدشے کو مسترد بھی نہیں کیا۔ فارچیون (Fortune) سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خطرہ صفر ہرگز نہیں ہے، اور اس حوالے سے کوئی بھی قطعی اعداد و شمار دینا محض قیاس آرائی ہوگا۔‘

یہ بھی پڑھیے ’چین مصنوعی ذہانت میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے‘

لیلیٰ ابراہیم ‘سینٹر فار AI سیفٹی’ کے 2023 کے اس اعلامیے پر بھی دستخط کر چکی ہیں جس میں انتھروپک (Anthropic) اور اوپن AI (OpenAI) کے مشترکہ بانیان بھی شامل تھے۔ اس اعلامیے میں زور دیا گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے انسانیت کے خاتمے کے خطرے کو بھی جوہری جنگ اور عالمی وباؤں کی طرح بین الاقوامی ترجیح بنا کر اس کا سدباب کیا جائے۔

تین سال گزرنے کے بعد بھی ان کا موقف ہے کہ ٹیکنالوجی جس تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، اس ماحول میں انسانی وجود کو لاحق خطرات پر بات نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہوگا۔

ان کے اس انتباہ کی کی تائید دیگر عالمی ماہرین بھی کرتے ہیں۔ AI کے بابائے آدم کہلانے والے جیفری ہنٹن کا تخمینہ ہے کہ اگلے 30 سالوں میں AI سے انسانوں کی تباہی کا خطرہ 10 سے 20 فیصد تک ہے۔ اسی طرح ڈاریو اموڈے (Amodei) کے مطابق مستقبل میں شدید ترین منفی حالات پیدا ہونے کا امکان 25 فیصد ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے وجود میں آنے سے بہت پہلے معروف ماہرِ طبیعیات سٹیفن ہاکنگ بھی ایسی ہی تحذیر جاری کر چکے تھے۔

لیلیٰ ابراہیم نے عالمی وبا (کورونا) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تباہ کن خطرات ہمیشہ وہی نہیں ہوتے جن کی انسان پہلے سے توقع کر رہا ہو۔ ماضی میں بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا جیسی تکنیکی تبدیلیوں کے دوران صنعتیں خطرات کا درست تخمینہ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ایلون مسک اور سیم آلٹ مین میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر اختلاف، دولت اور پیسے کے کردار پر بحث

وہ AI سے متعلق خوش کن اور حسین پیشگوئیوں پر بھی شک و شبہے کا اظہار کرتی ہیں۔ ایلون مسک نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ 2036 تک روبوٹس کی آمد سے پیسے کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور سب کے لیے یکساں خوشحالی ہوگی۔ جیف بیزوس نے 2045 تک ملین سے زائد انسانوں کے خلائی بستیوں میں بسنے، جبکہ سیم آلٹمین نے خلائی شعبے میں نئی ملازمتوں کی پیشگوئی کی ہے۔ تاہم، لیلیٰ ابراہیم ان خوابناک پیشگوئیوں سے متفق نظر نہیں آتیں، کیونکہ ان کے نزدیک AI کی سمت اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ ابھی سے ان باتوں پر حتمی رائے قائم کرنا ناممکن ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اصل توجہ AI کے ذریعے موجودہ دور کے سرفہرست مسائل، جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی اور صنعتی آلودگی کو حل کرنے پر مرکوز ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ثمرات اور فوائد چند مخصوص کمپنیوں تک محدود رہنے کے بجائے بلا تفریق پوری انسانیت تک پہنچنے چاہئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سعودی عرب پہنچ گئے

سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

پاکستان اور چین سے مستقل دشمنی مسئلے کا حل نہیں، آر ایس ایس سربراہ

پنجاب میں 21 ہزار سے زائد افراد منشیات کے مقدمات میں جیلوں میں بند، سیکریٹری داخلہ

حویلی میں مسلم لیگ (ن) کا بڑا انتخابی پاور شو، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام کا حکومت سازی کا دعویٰ

ویڈیو

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟