وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور پاکستان و کشمیر کے درمیان مضبوط رشتے کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت ہر جائز مطالبے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم آئین و قانون سے بالاتر کسی اقدام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والی سابق رکن اسمبلی بیگم امتیاز نسیم، ان کے ساتھیوں اور دیگر رہنماؤں کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ نئے شامل ہونے والے رہنما پارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے امیر حسن، راجا سبیل، راجا عبدالحفیظ، اسامہ زاہد، راجا مجاہد اور دیگر کارکنوں کی خدمات کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کے 17 مطالبات پر مکمل عملدرآمد ہوچکا، امیر مقام نے تفصیلات سامنے رکھ دیں
امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت 38 مطالبات پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات کیے گئے، جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس تمام عمل کی ذاتی طور پر نگرانی کرتے رہے اور مسلسل رابطے میں رہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں سمیت مختلف معاملات پر بات چیت کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، تاہم بعد میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے نئے مطالبات پیش کیے گئے جن میں آئین سے پاکستان سے وفاداری سے متعلق حلف کی شق ختم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
امیر مقام نے کہا کہ پاکستان سے وفاداری کا حلف آزاد کشمیر کے آئینی اور سیاسی ڈھانچے کا بنیادی حصہ ہے اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ باعث تشویش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مطالبات تحریری شکل میں موجود ہیں اور متعلقہ افراد کے دستخط بھی اس پر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار، آزاد حکومت اپنی رٹ قائم کرے، وزیر امور کشمیر امیر مقام
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے عوام کے کسی بھی طبقے کا کوئی حقیقی اور جائز مسئلہ ہے تو حکومت اس پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور دیگر اداروں کو بند کرکے متبادل نظام قائم کرنے کی کوشش قبول نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی رائے کا فیصلہ انتخابات کے ذریعے ہوتا ہے اور جو لوگ عوامی حمایت رکھتے ہیں انہیں انتخابی عمل میں حصہ لینا چاہیے۔
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے انتخابی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ ایک ہی امیدوار کو مل سکتا ہے، تاہم ٹکٹ نہ لینے والے تمام رہنما بھی مسلم لیگ ن کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے تمام فیصلے ذاتی تعلقات کے بجائے پارٹی مفاد اور کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی قوم ایک ہے اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، امیر مقام
امیر مقام نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف نے جمہوری روایات کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے بڑی جماعت کو حکومت بنانے کا حق دیا اور مثبت سیاسی روایت قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ تنازع ہے اور کشمیری عوام کی جدوجہد سیاسی اور سفارتی سطح پر جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی قوتوں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔














