نیویارک ٹائمز نے 17 جون کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ظاہری گرمجوشی کے باوجود حالیہ مہینوں میں امریکا اور بھارت کے تعلقات کئی مشکلات سے دوچار رہے ہیں، جبکہ بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے واقعے نے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: جی7 اجلاس: مودی اور ٹرمپ کی ملاقات میں سرد مہری، ویڈیو وائرل
یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ امریکی حکومت نے بھارت کے مطالبے کے باوجود بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر باقاعدہ اظہارِ افسوس یا معذرت سے انکار کر دیا تھا جس پر بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں شدید ناراضی اور تنقید دیکھنے میں آئی۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے دوران ایک دوسرے کے لیے خوشگوار جملے اور تعریفی کلمات ضرور کہے گئے لیکن ایسی کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی جس سے یہ تاثر ملے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑ جلد بھرنے جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر بھارت پر عائد امریکی ٹیرف میں کسی کمی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ البتہ دوطرفہ تجارت پر بات چیت ضرور ہوئی جس کے دوران صدر ٹرمپ نے مودی کو ’مشکل مذاکرات کار‘ قرار دیا۔
بھارت امریکا سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کیا کر رہا ہے؟
بھارت اس وقت امریکا کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ مودی اور ٹرمپ کی ملاقات نے یہ حقیقت بھی نمایاں کی کہ امریکی طاقت کے سامنے بھارت کی اخلاقی جرات اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کی آمادگی کی بھی اپنی حدود ہیں۔
اس ملاقات سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی گرمجوشی کی توقع کی جا رہی تھی۔ اسے دوطرفہ روابط میں پیدا ہونے والی سردمہری کم کرنے کا ایک اہم موقع سمجھا جا رہا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں امریکا اور بھارت کے تعلقات متعدد وجوہات کی بنا پر متاثر ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیے: مودی کو فون پر بتا دیا کہ پاکستان اور انڈیا کی جنگ نہیں ہونی چاہیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اگرچہ مودی اور ٹرمپ کے درمیان ذاتی قربت اور دوستانہ تعلقات ایک بار پھر نمایاں نظر آئے تاہم بنیادی نوعیت کے پالیسی اختلافات، حالیہ علاقائی واقعات اور باہمی تحفظات نے تعلقات میں حقیقی مفاہمت اور بڑی پیش رفت کی گنجائش محدود کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ خوشگوار ماحول کے باوجود ملاقات سے کسی بڑی تبدیلی کے آثار سامنے نہیں آئے۔
جی 7 اجلاس کے پہلے روز کیا ہوا؟
15 جون کو فرانس کے شہر ایویاں لے باں میں منعقد ہونے والے جی سیون اجلاس نے بھی خاصی توجہ حاصل کی۔ اجلاس کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں جبکہ ایک دوسری ویڈیو میں مودی خود ٹرمپ کے پاس جا کر مصافحہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل بھارت کے وزیراعظم کے ساتھ یہ رویہ نہ صرف عالمی مبصرین بلکہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کے لیے بھی حیران کن تھا جہاں اسے مودی کی سفارتی سبکی قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیں: مودی کے اوساں خطا، ٹرمپ کا ایک اور وار، لداخ کے معاملے پر 2 ممالک کے درمیان پھڈا، جنگ کا خطرہ
تاہم 17 جون کو دونوں رہنماؤں کے درمیان باقاعدہ ملاقات ہوئی، جس میں صدر ٹرمپ نے مودی کو ’خوبصورت‘ قرار دیتے ہوئے مزاحیہ انداز میں ’قاتل‘ بھی کہا۔ انہوں نے اپنی اور مودی کی دوستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی کی حکومت کے دوران کسی نے بھارت پر حملہ کیا تو امریکا اس کے ساتھ کھڑا ہوگا تاہم اگر بھارت میں کوئی اور حکومت ہوتی تو وہ ایسی یقین دہانی نہیں کرا سکتے تھے۔
امریکا اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ کہاں سے شروع ہوئی؟
ہاؤڈی مودی اور نمستے ٹرمپ کا دور اب ماضی بن چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں ان کی اور وزیراعظم مودی کی دوستی کو عالمی سیاست کی مضبوط ترین شخصی شراکت داریوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ امریکا میں ’ہاؤڈی مودی‘، بھارت میں ’نمستے ٹرمپ‘ اور ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ جیسے عوامی اجتماعات دونوں رہنماؤں کی قربت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران، خصوصاً مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی کے بعد، یہ تعلقات بتدریج سرد پڑنے لگے۔ جی 7 اجلاس نے بھی اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان پہلے جیسی گرمجوشی باقی نہیں رہی بلکہ فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مودی سرکار کو ایک اور جھٹکا، ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا دورہ منسوخ کردیا
جی سیون کے موقعے پر تقریباً ڈیڑھ سال بعد مودی اور ٹرمپ کی بالمشافہ ملاقات ضرور ہوئی مگر یہ مختصر رہی۔ مبصرین نے اس بات کو بھی نوٹ کیا کہ ماضی کی طرح نہ تو گرمجوش معانقہ دیکھنے میں آیا اور نہ ہی کسی بڑی دوطرفہ پیش رفت کا اعلان کیا گیا۔
پاک بھارت جنگ کے بعد اختلافات کیسے بڑھے؟
امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین کے مطابق پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں الٹا خود بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان فاصلے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات ہیں۔ جنگ بندی کے بعد صدر ٹرمپ نے متعدد بار دعویٰ کیا کہ امریکا نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ بندی کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا، تاہم بھارت نے اس دعوے کو مسلسل مسترد کیا۔
مزید پڑھیں: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید
مودی نے براہِ راست ٹرمپ کو بتایا کہ جنگ بندی کسی تیسرے فریق کی ثالثی سے نہیں بلکہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطوں کا نتیجہ تھی۔ چونکہ بھارت روایتی طور پر مسئلہ کشمیر یا پاک بھارت تنازعات میں کسی بیرونی ثالثی کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ٹرمپ کے یہ بیانات نئی دہلی کے لیے باعثِ ناگواری بنے۔
اختلافات کی دوسری اہم وجہ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی رہی۔ بھارتی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ ٹرمپ انتظامیہ جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر پاکستان کو اہمیت دے رہی ہے، جس پر نئی دہلی نے مختلف مواقع پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
تجارتی تنازعات بھی وجہ بنے
اقتصادی معاملات نے بھی تعلقات میں سردمہری پیدا کی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹیرف، درآمدی پابندیوں اور مارکیٹ تک رسائی جیسے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ امریکی حکام بھارتی تجارتی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے جبکہ بھارت نے بعض امریکی اقدامات کو اپنے معاشی مفادات کے خلاف قرار دیا۔
بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر بھی تنازع
حالیہ ہفتوں میں ایران سے متعلق بحران نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھا دی۔ امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران خلیجِ عمان کے قریب بھارتی عملے سے وابستہ بحری جہاز متاثر ہوئے اور تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے۔
اس واقعے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے افسوس اور معافی کا مطالبہ کیا، تاہم امریکی حکومت نے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا۔ اس انکار پر بھارتی میڈیا کے متعدد حلقوں میں شدید ناراضی دیکھنے میں آئی اور اسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کی ایک اور مثال قرار دیا گیا۔
تعلقات بحران کا شکار نہیں لیکن پہلے جیسے بھی نہیں
جی سیون اجلاس سے قبل کئی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ مودی اور ٹرمپ اس موقع پر تعلقات کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش کریں گے، مگر محدود ملاقات اور محتاط سفارتی بیانات نے یہ واضح کر دیا کہ دونوں ممالک ابھی تک اپنے اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات کسی بڑے بحران کا شکار ہیں۔ چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ، ایشیا پیسیفک خطے میں امریکی مفادات، دفاعی تعاون اور کواڈ جیسے فورمز آج بھی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب رکھنے والے اہم عوامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ اختلافات کے باوجود واشنگٹن اور نئی دہلی مکمل دوری اختیار کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
مزید پڑھیے: امریکا میں بدعنوانی کا مقدمہ: مودی کے ساتھی گوتم اڈانی کروڑوں ڈالر جرمانہ ادا کرکے جان چھڑانے پر مجبور
یوں محسوس ہوتا ہے کہ مودی اور ٹرمپ کے تعلقات اب محض شخصی دوستی کے بجائے قومی مفادات کے تابع ہو چکے ہیں۔ پاک بھارت جنگ، ثالثی کا تنازع، پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی، تجارتی اختلافات اور حالیہ علاقائی بحرانوں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان فاصلہ پیدا کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک اپنے مشترکہ تزویراتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اس سردمہری کو کم کر پاتے ہیں یا نہیں۔














