وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 27-2026 کا مجوزہ بجٹ گزشتہ 2 برس کے دوران حاصل ہونے والی پائیدار معاشی ترقی کو مزید تیز کرنے کی بنیاد فراہم کرے گا۔ حکومت کو ایوان کے اندر اور باہر سے مجموعی طور پر مثبت اور ترقی دوست بجٹ پر حوصلہ افزا ردعمل ملا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ بحث کے دوران ارکان اسمبلی نے اپنی آرا اور تجاویز پیش کیں، جبکہ بعض سفارشات پر تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا۔ تاہم انہیں ایوان کے اندر اور باہر سے واضح پیغام ملا کہ مجموعی طور پر یہ ایک مثبت اور پروگروتھ بجٹ ہے، جو ملک کی معاشی ترقی کے سفر کو مزید آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں بجٹ پر 7 روزہ بحث مکمل، کس جماعت کو کتنا وقت ملاِ؟ اسپیکر نے بتا دیا
محمد اورنگزیب نے بجٹ بحث میں حصہ لینے والے تمام اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خصوصاً قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین نوید قمر کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں قائمہ کمیٹیوں نے بجٹ تجاویز کا خلوص نیت سے جائزہ لیا اور بہتری کے لیے سفارشات پیش کیں، جن میں سے بعض کو فنانس بل 2026 میں شامل کرنے کا ارادہ ہے۔
وزیر خزانہ نے حکومتی اتحادی جماعتوں کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں ان کی رہنمائی انتہائی اہم رہی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ خواجہ شیراز محمود اور عظیم الدین زاہد کی جانب سے استحقاق کی تحریک پیش کی گئی، جس میں بجٹ دستاویز میں مبینہ تضادات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
انہوں نے کہاکہ مالی سال 2026 کی جی ڈی پی گروتھ، فی کس آمدنی اور ان کے تعین کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاشی اشاریوں کی رپورٹنگ کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ان کے مطابق اعتراضات کرنے والے ارکان کو مالی سال 2018 کے معاشی اعداد و شمار بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں پیمائش کا معیار یکساں رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو معاشی سرگرمیوں اور قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے شمار کی جاتی ہے، اسی لیے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے 3.7 فیصد جی ڈی پی گروتھ 16-2015 کے بیس ایئر کی مستقل قیمتوں کی بنیاد پر نکالی گئی، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ نومنل جی ڈی پی موجودہ مارکیٹ قیمتوں پر شمار کی جاتی ہے، اس لیے تصور اور پیمائش کے اعتبار سے یہ حقیقی جی ڈی پی سے مختلف ہوتی ہے۔ عالمی اصولوں کے مطابق فی کس آمدنی کا حساب بھی موجودہ قیمتوں، مجموعی قومی آمدنی اور تخمینہ شدہ آبادی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کے لیے 2023 کی مردم شماری اور سرکاری تخمینوں کو استعمال کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق مجموعی قومی آمدنی میں نومنل جی ڈی پی کے ساتھ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی خالص فیکٹر آمدنی بھی شامل ہوتی ہے، جس میں ورکرز ریمیٹنسز اہم جزو ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مالی سال 2025 میں معیشت کا حجم 408.2 ارب ڈالر تھا، جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
اپنی تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا کا خسارے کا بجٹ، کیا صوبہ منی بجٹ لائے گا؟
انہوں نے کہا کہ اس سفارتی کوشش کے نتیجے میں رواں ہفتے امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو پاکستان کی سیاسی اور سفارتی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔
انہوں نے قومی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو بھی مبارکباد دی اور کہا کہ اس امن معاہدے کا پہلا ثمر وزیراعظم کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی صورت میں سامنے آیا، جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کی گئی۔














