ایران جنگ کے بعد چین خود کو ایک ایسے عالمی فریق کے طور پر پیش کر رہا ہے جس نے تنازع کے دوران سفارتی توازن برقرار رکھا، توانائی کے بحران سے نسبتاً بہتر انداز میں نمٹا اور مشرق وسطیٰ میں امن کے حامی کردار کو اجاگر کیا۔ تجزیوں کے مطابق بیجنگ کے خیال میں اس بحران نے امریکا کے عالمی اثر و رسوخ کی حدود بھی نمایاں کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چین امریکا کو پیچھے چھوڑنے کے قریب پہنچ گیا
امریکا کے بین الاقوامی ادارے سی این این میں شائع رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ اور اس کے بعد ہونے والے عبوری معاہدے کو چین اپنی سفارتی کامیابیوں اور عالمی کردار میں اضافے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ نے اس تنازع کے دوران ایک محتاط حکمت عملی اپنائی، جس کے نتیجے میں وہ ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا جو جنگ کے بجائے سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے۔
China says ‘welcomes’ Iran-US signing deal to end Middle East war https://t.co/0oXlhDQTOH
— The Straits Times (@straits_times) June 18, 2026
رپورٹ کے مطابق جب فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا آغاز ہوا تو چین کو خدشہ تھا کہ تہران میں حکومت کو بھی اسی طرح نقصان پہنچ سکتا ہے جیسے ماضی میں بعض دیگر اتحادی حکومتوں کو پہنچا۔ تاہم کئی ماہ بعد صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں عبوری معاہدہ طے پایا، جبکہ ایرانی حکومت اپنی جگہ برقرار ہے۔

چین نے اس دوران ایران پر حملوں کی مخالفت کی، ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھی اور ساتھ ہی امریکا سمیت دیگر فریقوں سے رابطے بھی برقرار رکھے۔ بیجنگ نے خود کو تنازع کے فریق کے بجائے ایک ممکنہ امن سہولت کار کے طور پر پیش کیا۔
چینی وزارت خارجہ نے امریکا اور ایران کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین نے اپریل میں صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ 4 نکاتی امن تجاویز کا بھی حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں:توانائی کے صاف اور قابلِ تجدید ذرائع کا استعمال، چین امریکا پر بازی لے گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جی سیون اجلاس کے دوران چین اور صدر شی جن پنگ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نے غیر جانبدار رہتے ہوئے تنازع کو حل کرنے میں مدد کی۔
ایران جنگ کے دوران توانائی کے بحران کے باوجود چین کو نسبتاً کم نقصان اٹھانا پڑا، جس کی بڑی وجہ اس کے بڑے تیل ذخائر، متبادل توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے امریکا کی فوجی طاقت کے استعمال کی حدود کو نمایاں کیا ہے۔ بعض تجزیہ کار اسے امریکا کے لیے ’سویز لمحہ‘ قرار دے رہے ہیں، جس سے مراد عالمی طاقت کے اثر و رسوخ میں تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔

تاہم چینی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکا کی کمزوری کا مطلب یہ نہیں کہ چین خود بخود عالمی نظام کا نیا سربراہ بن جائے گا۔ ان کے مطابق چین کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ صرف تنقید کے بجائے عملی سفارتی حل، توانائی کے استحکام اور علاقائی امن کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔
ایران جنگ کے بعد چین کی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ، عالمی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندی اور مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے توازن کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔














