ویمنزٹی20 ورلڈ کپ کے پول میچ میں نظم و ضبط سے بھرپور شاندار باؤلنگ اور چست فیلڈنگ کی بدولت بنگلہ دیشی خواتین کرکٹ ٹیم نے پاکستان خواتین ٹیم کو 23 رنز سے شکست دے کر مزید آگے کا سفر تقریباً ختم کر دیاہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے بیٹنگ میں مایوس کن آغاز کے باوجود، کپتان نگار سلطانہ کی ذمہ دارانہ اننگز اور آخری اوورز میں شورنا اختر کی جارحانہ بیٹنگ نے بنگلہ دیشی باؤلرز کو لڑنے کے لیے مناسب اسکور فراہم کیا۔
بنگلہ دیشی بولرز نے پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع نہ دیا اور انہیں مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 100 رنز تک محدود کر دیا۔
بنگلہ دیش کا مایوس کن آغاز، مگر جاندار اختتام
ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم کا آغاز انتہائی تباہ کن رہا۔ پاکستان کی اوپننگ باؤلر فاطمہ ثنا نے ابتدائی اوورز میں ہی زبردست وار کرتے ہوئے دلارا اختر کو 5 اور شرمین اختر کو صفر پر پویلین کی راہ دکھا دی۔
یہ بھی پڑھیں:ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے شیڈول کا اعلان، پاکستان کا پہلا میچ بھارت سے ہوگا
بنگلہ دیشی ٹیم صرف 5 رنز پر 2 وکٹوں سے محروم ہو گئی۔ جب جویریہ فردوس بھی محض 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں تو بنگلہ دیشی ٹیم 13 رنز پر 3 وکٹیں گنوا کر شدید مشکلات کا شکار نظر آئی۔
تاہم، کپتان نگار سلطانہ نے دباؤ کے وقت انتہائی پراعتماد انداز میں کھیلتے ہوئے ایک نجات دہندہ کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے 38 گیندوں پر 36 رنز کی ایک پائیدار اننگز کھیلی اور پہلے سبحانہ مستری کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھایا۔لیکن اننگز میں اصل جان شورنا اختر کی بدولت آئی۔
آخری اوورز میں کریز پر آنے والی شورنا نے محض 22 گیندوں پر 39 رنزکی دھواں دھار اور ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، جس میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 177.27 رہا۔
ان کی اس جارحانہ بیٹنگ نے بنگلہ دیش کو لڑنے کے قابل اسکور 6 وکٹوں کے نقصان پر 123 تک پہنچا دیا، اور یوں ایک ایسا مجموعہ تیار ہو گیا جس کا دفاع کیا جا سکے۔
پاکستان کی طرف سے فاطمہ ثنا سب سے کامیاب باؤلر رہیں جنہوں نے 18 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ اچھے آغاز کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی۔
124 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز کافی امید افزا تھا۔ اوپنرز منيبہ علی نے 25 اور گل فیروزہ نے 23 رنز کے ساتھ پراعتماد انداز میں کھیلتے ہوئے 49 رنز کی مضبوط شراکت داری قائم کی، جس کی وجہ سے پاکستان مطلوبہ رن ریٹ کے لحاظ سے میچ پر حاوی نظر آ رہا تھا۔
لیکن اسپنرز کے آتے ہی میچ کا پاسا مکمل طور پر پلٹ گیا۔ لیفٹ آرم اسپنر ناہیدہ اختر نے آٹھویں اوور میں گل فیروزہ کو آؤٹ کر کے بنگلہ دیش کو پہلی کامیابی دلائی۔ اس ایک وکٹ کے گرتے ہی پاکستان کا مڈل آرڈر تاش کے پتے کی طرح بکھر گیا جس سے ٹیم دوبارہ نہ سنبھل سکی۔
مزید پڑھیں:آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ: سری لنکا کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 8 وکٹوں سے شکست
پاکستان کا اسکور ایک وقت میں بغیر کسی نقصان کے 49 رنز تھا، لیکن پھر بنگلہ دیشی اسپنرز نے اپنے مڈل آرڈر بلے بازوں کو اپنے جال میں ایسا پھنسایا کہ پوری ٹیم 84 رنز پر 8 وکٹیں گنوا بیٹھی۔
سنجیدہ اختر میگھلا نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 21 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں، جن میں خطرناک آل راؤنڈر عالیہ ریاض اور سائرہ جبیں کے اہم صفر (ڈکس) بھی شامل تھے۔
اسپنرز نے فتح پر مہر لگا دی
ناہیدہ اختر نے آخری اوورز میں دوبارہ آ کر پاکستان کی رہی سہی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور 18 رنز دے کر 3 وکٹوں کے ساتھ اپنے اسپیل کا شاندار اختتام کیا۔
دوسری جانب رابعہ خان نے ایک اور ریتو مونی نے بھی ایک وکٹ لے رنز بنانے کی رفتار کو بالکل روک دیا۔ پاکستانی بلے باز رنز بنانے اور اسٹرائیک روٹیٹ کرنے کے لیے بے بس نظر آئے اور انہوں نے اپنے 20 اوورز کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 58 ڈاٹ گیندیں (بغیر کسی رن کے) کھیلیں۔
آخری اوورز میں نشرہ سندھو 9 اور تسمیہ رباب 7 کی ناٹ آؤٹ شراکت داری صرف ہار کے فرق کو ہی کم کر سکی، کیونکہ پاکستان کی ٹیم 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 100 رنز ہی بنا سکی اور میچ 23 رنز سے ہار گئی۔
اس شاندار اور نپی تلی کارکردگی کے ساتھ، بنگلہ دیش نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی اسکور کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ پاکستانی ٹیم کو اپنی بیٹنگ لائن کی اس غیر ذمہ دارانہ کارکردگی پر غور کرنا ہوگا۔












