حکومت بلوچستان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں پر عائد 100 فیصد صوبائی ٹیکس معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کو صوبے میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے فروغ اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مٹسوبشی نے نئی الیکٹرک کار ‘اکلپس اسپورٹ بیک’ متعارف کرادی، خصوصیات کیا ہیں؟
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک احمد ندیم نے بتایا کہ ٹیکس چھوٹ سے الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں عام صارفین کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمد کنندگان اور ڈیلرز کو بھی کاروبار بڑھانے کا موقع ملے گا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران زیادہ قیمتوں اور ٹیکسوں کی وجہ سے بلوچستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت محدود رہی، تاہم نئی پالیسی کے بعد مارکیٹ میں نمایاں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

مقامی گاڑیوں کے ڈیلرز نعمت آغا نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کرے گا بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی۔ ٹیکس معافی سے گاڑیوں کی مجموعی لاگت کم ہوگی، جس کے باعث صارفین کی بڑی تعداد اب الیکٹرک گاڑیاں خریدنے پر غور کرے گی۔
ڈیلرز کے مطابق اگر حکومت چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک بھی وسعت دے اور آسان اقساط یا مالی سہولیات فراہم کرے تو بلوچستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ٹیکس چھوٹ کافی نہیں بلکہ بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی بھی ناگزیر ہے تاکہ صارفین بلا خوف و خطر الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان بجٹ برائے سال 2024-25 : تنخواہوں میں 22 سے 25 فیصد، پینشن میں 15 فیصد اضافہ کی تجویز
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے ایندھن کی درآمد پر انحصار کم ہوگا، فضائی آلودگی میں کمی آئے گی اور طویل مدت میں صارفین کے سفری اخراجات بھی کم ہوں گے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی مرمت، سروسنگ اور چارجنگ سے متعلق نئے کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے روزگار کے امکانات میں اضافہ متوقع ہے۔
بلو
شہریوں نے بھی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ٹیکس چھوٹ کے ثمرات براہ راست صارفین تک منتقل کیے گئے تو صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے گا اور الیکٹرک گاڑیاں عام آدمی کی پہنچ میں آ سکیں گی۔












