قاہرہ میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا چوتھا ’ریجنل-4‘ اجلاس ہوا۔ جس میں امریکا اور ایران کے درمیان 18 جون 2026 کو طے پانے والی ’ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا خیرمقدم کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے میں اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی استحکام بڑھانے اور عالمی سپلائی چین کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا گیا، جبکہ پاکستان اور قطر کی سفارتی کاوشوں کو سراہا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ معاہدے کی کامیابی کے لیے تمام فریق اپنے وعدوں پر عمل کریں اور مستقبل کے معاہدوں میں خلیجی عرب ممالک کے سیکیورٹی خدشات کو اہمیت دی جائے۔
وزرائے خارجہ نے فلسطین کے مسئلے کو خطے کے امن کا بنیادی عنصر قرار دیتے ہوئے مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کے ساتھ 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کیا۔ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے انصاف کے لیے مشترکہ اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
چاروں ممالک مسلسل اعلیٰ سطحی بیٹھکیں منعقد کر رہے ہیں اور خطے کو لاحق مختلف چیلنجز پر بات کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا 4 ممالک کے یہ اجلاس ایک بڑے اسلامی اتحاد کا پیش خیمہ ہیں، اسلام آباد کے شہری اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
آئیے! جانتے ہیں زنیرہ رفیع کی اس ویڈیو رپورٹ سے













