دنیا کے بیشتر ممالک میں لائبریریوں کو صرف کتابیں ادھار دینے کی جگہ سمجھا جاتا ہے لیکن فن لینڈ میں لائبریریاں اب اس سے کہیں آگے بڑھ کر سماجی شمولیت، جمہوری اقدار، عوامی خدمات اور کمیونٹی زندگی کا اہم مرکز بن چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: منفرد ریٹیل اسٹور جو ایک شاندار لائبریری بھی ہے
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فن لینڈ کی لائبریریوں کی کامیابی کا پیمانہ صرف کتابوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ معاشرے کو بہتر انداز میں چلانے، لوگوں کو قریب لانے اور شہریوں کو مختلف سہولیات فراہم کرنے میں کس حد تک کردار ادا کر رہی ہیں۔
ہیلسنکی کی مرکزی لائبریری اوودی جسے سنہ 2019 میں دنیا کی بہترین نئی تعمیر شدہ لائبریری قرار دیا گیا تھا ہر روز ہزاروں افراد کا استقبال کرتی ہے۔ صبح 8 بجے دروازے کھلنے سے پہلے ہی لوگ باہر قطاریں بنا لیتے ہیں جبکہ دوپہر تک عمارت اس قدر بھر جاتی ہے کہ خالی نشست تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہاں طلبہ مطالعہ کرتے ہیں، والدین بچوں کے ساتھ کتابیں پڑھتے ہیں، لوگ بنائی سیکھتے ہیں، موسیقی ریکارڈ کرتے ہیں، غیر ملکی شہری فنش زبان کی مشق کرتے ہیں جبکہ نوجوان لائبریری سے باسکٹ بال لے کر باہر کھیلنے چلے جاتے ہیں۔
کتابوں کے ساتھ سلائی مشینیں بھی
فن لینڈ میں 56 لاکھ آبادی کے لیے 700 سے زائد عوامی لائبریریاں موجود ہیں، جہاں صرف کتابیں ہی نہیں بلکہ پوڈکاسٹ اسٹوڈیوز، تھری ڈی پرنٹرز، سلائی مشینیں، ٹینس ریکٹس، بورڈ گیمز، ویڈیو گیمز، سوئمنگ پول پاسز اور دیگر سامان بھی ادھار لیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: مدینہ منورہ: مسجد نبویؐ کی لائبریری حج کے بعد آنے والے زائرین کے لیے علم و تحقیق کا مرکز بن گئی
کی ڈائریکٹر کاتری وینٹینن کے مطابق کتابوں کے بعد سب سے زیادہ مانگ لائبریری کے کمروں کی ہوتی ہے جہاں لوگ مفت میں اجلاس، مطالعہ، سیاسی مباحثے، موسیقی کی مشق یا دیگر سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں بہت سے لوگ چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں اور انہیں سلائی مشین جیسی چیز سال میں شاید ایک ہی بار درکار ہوتی ہے اس لیے خریدنے کے بجائے وہ ٹیکس کے ذریعے فراہم کی جانے والی یہ سہولت استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔
عوامی اعتماد کی مثال
فن لینڈ کے شہر اولو کی مرکزی لائبریری میں بھی لوگ سلائی مشین، تھری ڈی پرنٹر، لیزر کٹر اور دیگر جدید سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق فن لینڈ میں 55 فیصد شہری ہر ماہ کم از کم ایک بار لائبریری جاتے ہیں جبکہ ایک فنش شہری اوسطاً سال میں 9.1 مرتبہ لائبریری کا استعمال کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی کی مفت پبلک لائبریری بند ہونے سے کیسے بچی؟
اس کے مقابلے میں برطانیہ میں یہ اوسط تقریباً 2.5، امریکا میں 2.4 جبکہ یورپی یونین میں 3.5 مرتبہ سالانہ ہے۔
صرف مطالعہ نہیں، جمہوریت بھی
ماہرین کے مطابق فن لینڈ کی لائبریریاں صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ جمہوری معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، جہاں ہر طبقے کے لوگ بلاامتیاز ایک ہی جگہ بیٹھتے، سیکھتے، گفتگو کرتے اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
فن لینڈ کے لائبریری ایکٹ کے تحت عوامی لائبریریوں پر لازم ہے کہ وہ جمہوریت، آزادیِ اظہار اور فعال شہریت کو فروغ دیں۔
سرکاری خدمات تک رسائی
فن لینڈ کی لائبریریاں شہریوں کو سرکاری آن لائن خدمات استعمال کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔
لائبریرین لوگوں کو ٹیکس جمع کرانے، بینک اکاؤنٹس، پنشن پورٹل، ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈ، ملازمت کے لیے سی وی تیار کرنے اور آن لائن درخواستیں جمع کرانے میں معاونت فراہم کرتے ہیں جس سے معاشرے کے کمزور طبقات بھی جدید ڈیجیٹل سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری کا بھرپور ثمر
فن لینڈ نے 2025 میں عوامی لائبریریوں پر تقریباً 371 ملین یورو خرچ کیے یعنی فی شہری تقریباً 66 یورو۔
اس کے مقابلے میں برطانیہ میں فی فرد تقریباً 10 پاؤنڈ جبکہ امریکا میں تقریباً 45 ڈالر سالانہ لائبریریوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: حسن ابدال کی لائبریری میں محفوظ قرآن پاک کے نایاب نسخے
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ عوامی لائبریریوں پر خرچ ہونے والا ہر ایک ڈالر معاشرے کو 3 سے 5 ڈالر تک کا فائدہ واپس دیتا ہے، کیونکہ اس سے تعلیم، روزگار، ڈیجیٹل مہارت، سماجی شمولیت اور مجموعی فلاح و بہبود میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
سب کے لیے ایک جیسی جگہ
فن لینڈ کی رکن پارلیمان نسیمہ رضمیار، جو بچپن میں افغانستان سے بطور مہاجر فن لینڈ پہنچی تھیں، کہتی ہیں کہ ان کا پہلا لائبریری کارڈ ان کی نئی زندگی کی پہلی ذاتی ملکیت تھا۔
ان کے مطابق بچپن میں مقامی لائبریری نے نہ صرف ان کی تعلیم میں مدد کی بلکہ انہیں یہ احساس بھی دیا کہ وہ اس معاشرے کا حصہ ہیں۔
اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کی علامت
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اگرچہ سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے، لیکن لائبریریاں اب بھی ان چند اداروں میں شامل ہیں جن پر لوگ سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
ان کے مطابق لائبریری وہ منفرد عوامی مقام ہے جہاں لوگ بغیر کسی خریداری یا مالی شرط کے آ سکتے ہیں، وقت گزار سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور اپنی کمیونٹی کے ساتھ جڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کے ایچ خورشید لائبریری، آزاد کشمیر میں علم کا روشن مینار
محققین کا کہنا ہے کہ فن لینڈ کا ماڈل اس بات کی مثال ہے کہ اگر لائبریریوں کو صرف کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں سماجی، تعلیمی اور جمہوری مراکز بنایا جائے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔














