چین میں صدیوں پرانی روایت کے تحت کتے کا گوشت کھانے کا رواج موجود ہے، تاہم موجودہ دور میں اس روایت کے خلاف مخالفت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس سلسلے میں چین کے جنوبی شہر یولین میں منعقد ہونے والا کتے کے گوشت کا متنازع میلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔ 10 دن تک جاری رہنے والے اس میلے کا آغاز 21 جون کو ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا راولپنڈی اسلام آباد کے ہوٹلوں پر گدھے کا گوشت سپلائی کیا جاتا رہا ہے؟
جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے کارکن برسوں سے اس میلے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ میلے کے لیے جانوروں کو مختلف مقامات سے منتقل کیا جاتا ہے، جہاں بعض جانوروں کو خوراک اور پانی کے بغیر رکھا جاتا ہے۔
ناقدین کے مطابق کچھ جانور مبینہ طور پر چوری کیے گئے پالتو جانور ہوتے ہیں جبکہ بعض آوارہ ہوتے ہیں، جنہیں ذبح کے لیے فروخت کیا جاتا ہے۔
تاہم اس ماہ ایک اہم پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب حکام نے یولین میں کتوں کے ذبح خانے کو مستقل طور پر بند کردیا، جہاں سے 9 کتوں کو بچایا گیا۔ ان میں سے 3 کتوں کے گلے میں پٹے موجود تھے، جس سے یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ پالتو اور ممکنہ طور پر چوری شدہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے تعاون سے پاکستان میں سالانہ 80 ہزار گدھوں کی افزائش کا منصوبہ
جانوروں کے تحفظ کے ادارے ہیومن ورلڈ فار اینیملز کی اینڈ ڈاگ اینڈ کیٹ میٹ مہم کی ڈائریکٹر جولی سینڈرز نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یولین جیسے بدنام زمانہ کتے اور بلی کے گوشت کے مرکز میں یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے۔
دوسری جانب کتے کا گوشت کھانے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے استعمال سے بعض بیماریوں کے علاج میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔










