جہاں مصنوعی ذہانت انسانوں کی ملازمتیں خطرے میں ڈال رہی ہے اور روبوٹ مختلف امور کی انجام دہی میں انسان کا نعمل البدل بننے کے لیے کوشاں ہیں وہیں روبوٹس نے بھکاریوں کا مستقبل بھی تاریک کرنے پر تل گئے ہیں جس کا اندازہ چین کے ایک تازہ وقوعے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملازمتوں کے لیے خطرہ ڈیلیوری روبوٹس اب شہریوں کا راستہ بھی روکنے لگے
چین میں ایک انسانی شکل کے روبوٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ سڑک کنارے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر لوگوں سے اپنی ’بجلی کا بل‘ ادا کرنے کے لیے مدد مانگتا دکھائی دیتا ہے تاکہ اس کو ری چارج ہونے میں مدد ملے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ چین کے صوبے سیچوان میں پیش آیا جہاں روبوٹ راہگیروں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھا تھا۔
اس کے ساتھ ایک عطیات کی پلیٹ اور کیو آر کوڈ بھی رکھا گیا تھا تاکہ لوگ نقد رقم یا ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے اس کی مدد کر سکیں۔
روبوٹ کے ساتھ نصب ایل ای ڈی اسکرین اور لاؤڈ اسپیکر پر مسلسل پیغام چل رہا تھا کہ ’ری چارج کے لیے پیسے نہیں‘ اور ’براہِ کرم بجلی کے بل میں مدد کریں‘۔
China’s got humanoid robots roaming the streets begging for donations to pay their “electricity bill.”
Complete with speaker, tray, and QR code.
Is it moving to California? Perfect training for life there. pic.twitter.com/9VTuxwkkcw
— Andrew Alvarez (@theOGalv) June 16, 2026
رپورٹس کے مطابق یہ یونٹری جی ون نامی انسانی شکل کا روبوٹ ہے جسے چینی روبوٹکس کمپنی یونٹری نے تیار کیا ہے۔ یہی کمپنی اس وقت بھی خبروں میں آئی تھی جب اسی ماڈل کے ایک روبوٹ نے رواں سال ایکواڈور کے بلند و بالا چمبورازو آتش فشاں پر چڑھنے کا مظاہرہ کیا تھا۔
مزید پڑھیے: کیا انسان نما روبوٹس میدان جنگ میں اترنے والے ہیں؟
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بعض صارفین نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ’اب تو بھکاریوں کی جگہ بھی روبوٹ لے رہے ہیں‘ جبکہ کچھ نے تبصرہ کیا کہ ’مصنوعی ذہانت کی دنیا پر قبضے کی مہم شاید ابھی مؤخر ہو گئی ہے‘۔
دوسری جانب کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ کسی کمپنی کی تشہیری مہم، فنکارانہ پرفارمنس یا صرف توجہ حاصل کرنے کا منفرد طریقہ ہے۔ ویڈیو میں بعض افراد کو روبوٹ کی پلیٹ میں سکے ڈالتے اور کچھ کو کیو آر کوڈ اسکین کرکے رقم بھیجتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ بیجنگ، چینگدو اور فوزو سمیت چین کے مختلف شہروں میں بھی ایسے ’روبوٹ بھکاری‘ دیکھے گئے ہیں جو اپنے ساتھ ’میرے پاس ری چارج کے لیے پیسے نہیں‘ جیسے پیغامات اور ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈ آویزاں کیے رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: روبوٹس کے لیے ہمارے کپڑے سینا مشکل، وہ اس کام سے ’گھبراتے‘ کیوں ہیں؟
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ روبوٹ واقعی خودکار طور پر چندہ جمع کر رہے ہیں یا کسی تشہیری مہم کا حصہ ہیں تاہم ان کی ویڈیوز نے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مستقبل میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔














