روبوٹس آج گاڑیاں جوڑتے ہیں، سرجری کرتے ہیں اور ہوائی اڈوں پر سامان سنبھالتے ہیں لیکن اگر انہیں سوئی اور دھاگا دے دیا جائے تو زیادہ تر روبوٹس مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’انسان بمقابلہ مشین‘ چیلنج: 10 گھنٹے کے مقابلے میں روبوٹس کو شکست کا سامنا
اسی وجہ سے دنیا بھر میں فروخت ہونے والے تقریباً تمام کپڑے آج بھی ہاتھ سے تیار کیے جاتے ہیں اور یہ کام اکثر ایشیا میں کم اجرت والے مزدور انجام دیتے ہیں۔
اگرچہ یہ کارکن سلائی مشینوں جیسے آلات استعمال کرتے ہیں لیکن اس پورے عمل کو مکمل طور پر خودکار بنانا بہت مشکل ہے۔ کیلیفورنیا کی روبوٹکس کمپنی کریئیٹ می کے بانی اور چیف ایگزیکٹو کیم مائرز کہتے ہیں کہ سلائی میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حرکت کے دوران کپڑے کے 2 ٹکڑوں کو ایک سیدھ میں رکھنا پڑتا ہے۔
ان کی کمپنی نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔ سلائی کے بجائے کپڑوں کے ٹکڑوں کو خاص گوند سے جوڑا جاتا ہے۔ مائرز کے مطابق جب گوند لگا دی جاتی ہے تو صرف کپڑے کو اوپر رکھ کر دبایا جاتا ہے۔
کمپنی نے ایسے روبوٹس تیار کیے ہیں جو اس طریقے سے خواتین کے زیرِ جامے بنا رہے ہیں جبکہ آنے والے مہینوں میں ٹی شرٹس کی تیاری بھی شروع کی جائے گی۔ اگلے سال بڑے پیمانے پر پیداوار متوقع ہے۔
مزید پڑھیے: ہیومنائیڈ روبوٹس کی حقیقت کیا ہے؟ ماہر نے بڑے دعوؤں پر سوال اٹھا دیا
ماہرین کئی دہائیوں سے ملبوسات کی صنعت میں روبوٹس کے استعمال پر کام کر رہے ہیں۔ اگر مشینیں یہ کام سنبھال لیں تو کپڑوں کی تیاری دوبارہ مغربی ممالک میں منتقل ہو سکتی ہے اور ماحول پر اس صنعت کے منفی اثرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس سے لاکھوں ٹیکسٹائل کارکن بے روزگار ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
فی الحال برطانیہ اور امریکا میں فروخت ہونے والے کپڑوں کا صرف ایک چھوٹا حصہ مقامی طور پر تیار ہوتا ہے۔ مائرز کا کہنا ہے کہ بہت سے صارفین ایسے کپڑے چاہتے ہیں جو امریکا میں تیار شدہ ہوں اور جن میں امریکی کپاس استعمال کی گئی ہو۔
ان کے مطابق یہ طریقہ کار کپاس، اون اور چمڑے سمیت مختلف مواد پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر صرف 10 فیصد ٹی شرٹ مینوفیکچرنگ بھی خودکار نظام کے ذریعے امریکا واپس منتقل ہو جائے تو یہ صنعت میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ استعمال ہونے والی گوند اتنی مضبوط ہے کہ استری یا واشنگ مشین کی حرارت سے نہیں پگھلتی۔ چونکہ ان کپڑوں میں روایتی سلائیاں نہیں ہوتیں اس لیے یہ زیادہ ہموار ہوتے ہیں اور انسانی جسم کے خدوخال کے مطابق بھی تیار کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم مائرز خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ فیشن انڈسٹری میں سب سے بڑا چیلنج تنوع ہے۔ صارفین مختلف رنگوں، ڈیزائنز اور انداز کے کپڑے پسند کرتے ہیں اور روبوٹس ابھی اس سطح کی لچک حاصل نہیں کر سکے۔
مزید پڑھیں: روحانی مشورے دینے والا روبوٹ متعارف، کیا یہ مذہبی اسکالرز کی جگہ لے سکتا ہے؟
دوسری جانب امریکا کی کمپنی سافٹ ویئر آٹومیشن کے سربراہ پالانی سوامی راجن کا کہنا ہے کہ سلائی کبھی ختم نہیں ہوگی کیونکہ بہت سے فیشن ایبل کپڑوں، خاص طور پر جینز، میں نمایاں سلائیاں ڈیزائن کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق ان کی کمپنی جلد تیسری نسل کے سلائی کرنے والے روبوٹس متعارف کروانے والی ہے جو ٹی شرٹس کو اتنی ہی لاگت پر تیار کریں گے جتنی لاگت انہیں بیرون ملک سے امریکا درآمد کرنے میں آتی ہے۔
ادھر ٹیکسٹائل ورکرز پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ کوویڈ 19 وبا کے دوران کئی فیکٹریاں بند ہوئیں جبکہ حالیہ ایران جنگ کے باعث پالئیےسٹر کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین اکثر کہتے ہیں کہ کارکنوں کو بہتر اور کم دہرائے جانے والے روزگار کی طرف جانا چاہیے لیکن حقیقت میں یہ تبدیلی فوری طور پر ممکن نہیں۔
خودکار کپڑا سازی کا ایک بڑا فائدہ ماحولیاتی اثرات میں کمی بھی ہو سکتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 92 ملین ٹن ٹیکسٹائل فضلہ پیدا ہوتا ہے جبکہ فروخت نہ ہونے والے لاکھوں کپڑے جلا دیے جاتے ہیں۔ اس صنعت میں پانی کا استعمال بھی بہت زیادہ ہے۔
آسٹریا کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف لیوبن کے جیرالڈ فائٹنگر کہتے ہیں کہ اگر کپڑوں کی تیاری مقامی سطح پر طلب کے مطابق کی جائے تو ضرورت سے زیادہ پیداوار اور ایشیا سے یورپ تک نقل و حمل سے پیدا ہونے والی کاربن گیسوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق اگر ٹی شرٹ روبوٹس کے ذریعے یورپ یا امریکا میں تیار کی جائے تو اس سے کاربن اخراج تقریباً 45 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
جرمن کمپنی روبوٹیکسٹائل بھی ایسے روبوٹک آلات تیار کر رہی ہے جو کپڑے کو نرمی سے پکڑ سکتے ہیں۔ بعض روبوٹس ہوا کے دباؤ سے کپڑے کو ہلکا سا اٹھاتے ہیں اور پھر اسے مخصوص گرفت میں جکڑ لیتے ہیں۔
کمپنی کے شریک بانی مائیکل فریڈے کے مطابق یورپ میں روبوٹک ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ تر خاص مصنوعات جیسے سائیکل بیگز یا گاڑیوں کے ایئر بیگز، تک محدود رہے گا۔ ان کا خیال ہے کہ مکمل طور پر مقامی پیداوار کی طرف واپسی میں کم از کم 10 سال لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب برطانیہ کی فیشن اینڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کی لارین جونیسٹرینڈ اس شعبے کے مستقبل کے حوالے سے زیادہ پرامید ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ میں روبوٹکس کے استعمال کی بڑی صلاحیت موجود ہے اور فیکٹریاں پہلے ہی مختلف مراحل میں روبوٹس استعمال کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: روبوٹس کے لیے اجرت طے کرنے کی تجویز، آخر یہ معاملہ کیا ہے؟
تاہم ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ یا مغربی ممالک شاید کبھی بھی پیداوار کے حجم میں ایشیائی ممالک کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں انسانوں اور روبوٹس کے درمیان مشترکہ وجود زیادہ حقیقت پسندانہ امکان ہے۔













