ملازمتوں کے لیے خطرہ ڈیلیوری روبوٹس اب شہریوں کا راستہ بھی روکنے لگے

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کے مختلف ممالک میں فٹ پاتھوں پر خودکار ڈلیوری روبوٹس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تاہم جہاں انہیں جدید ٹیکنالوجی اور ماحول دوست نقل و حمل کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے وہیں شہریوں، مقامی حکومتوں اور مزدور تنظیموں نے ان کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پابندیوں اور سخت ضوابط کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا انسان نما روبوٹس میدان جنگ میں اترنے والے ہیں؟

یہ روبوٹس، جنہیں خودکار شہری ڈلیوری گاڑیاں بھی کہا جاتا ہے امریکا، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں خوراک، گروسری اور دیگر اشیا کی ترسیل کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ کیمروں، سینسرز، جی پی ایس اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے فٹ پاتھوں پر خود راستہ تلاش کرتے ہوئے منزل تک پہنچتے ہیں۔

امریکی شہر شکاگو کے رہائشی جان رابرٹس کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے پہلی بار اپنے علاقے میں ایک ڈلیوری روبوٹ دیکھا تو وہ اسے مستقبل کی دلچسپ جھلک سمجھ کر متاثر ہوئے لیکن جلد ہی ان کی رائے بدل گئی۔

ان کے مطابق ایک روز اہلخانہ کے ساتھ چہل قدمی کے دوران انہیں ایک روبوٹ کو راستہ دینے کے لیے خود فٹ پاتھ چھوڑنا پڑا جس کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اگر ایسے درجنوں روبوٹ سڑکوں پر آ گئے تو پیدل چلنے والوں کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔

رابرٹس نے شکاگو بھر میں ان روبوٹس کی عارضی معطلی کے لیے آن لائن درخواست بھی شروع کی ہے جس پر اب تک تقریباً 4,400 افراد دستخط کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ متعدد مواقع پر لوگوں کو روبوٹس سے بچنے کے لیے سڑک پر اترنا پڑتا ہے جبکہ مختلف مقامات پر ان سے ٹکرانے، زخمی ہونے، ٹریفک میں خلل ڈالنے اور ہنگامی گاڑیوں کا راستہ روکنے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیے: یوکرین کی جنگ میں روبوٹس کا بڑھتا کردار، روس دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور

امریکی شہر گلینڈیل میں بھی مقامی کونسل ان روبوٹس پر عارضی پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔

کونسلر آرڈی کاساخیان کے مطابق روبوٹس بغیر کسی پیشگی اجازت کے شہر کی سڑکوں پر آ گئے جبکہ مقامی انتظامیہ کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں کون سی کمپنی چلا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہر کے فٹ پاتھ زیادہ کشادہ نہیں اس لیے بزرگ شہریوں اور روبوٹس کے درمیان کئی مرتبہ راستہ دینے کے لیے عجیب صورتحال پیدا ہوئی جبکہ خراب ہو جانے والے روبوٹس بھی پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ بنتے رہے۔

گلینڈیل حکام اب ایسے ضوابط چاہتے ہیں جن میں آپریٹنگ قوانین، انشورنس، اجازت نامے، فیس، مصروف علاقوں میں سرگرمیوں کی حدود اور کمپنیوں کی جوابدہی واضح طور پر طے کی جائے۔

دوسری جانب برطانیہ میں بھی یہ روبوٹس آزمائشی بنیادوں پر مختلف شہروں میں استعمال کیے جا رہے ہیں تاہم شیفیلڈ میں بعض افراد نے احتجاجاً کئی روبوٹس کو نقصان پہنچایا۔

مزید پڑھیں: روبوٹس کے بھی شناختی کارڈ: چین نے انسان نما روبوٹس کے لیے ڈیجیٹل پاسپورٹ لازمی کردیا

روبوٹس تیار کرنے والی کمپنی اسٹارشپ ٹیکنالوجیز کا مؤقف ہے کہ یہ مشینیں محفوظ، شائستہ اور انتہائی محتاط انداز میں چلنے کے لیے پروگرام کی گئی ہیں، جبکہ عوام کو صرف ان کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالنے کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے یورپی آپریشنز ڈائریکٹر ڈینی پاس کا کہنا ہے کہ روبوٹس 2018 سے برطانیہ کی مختلف کمیونٹیز میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

تاہم خدشات صرف عوامی تحفظ تک محدود نہیں۔

برطانیہ کی انڈیپنڈنٹ ورکرز یونین آف گریٹ برٹن جس کے ارکان میں ہزاروں ڈلیوری ڈرائیور بھی شامل ہیں خبردار کر چکی ہے کہ اگر یہ روبوٹس بڑے پیمانے پر متعارف کرائے گئے تو لاکھوں افراد کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: روبوٹس کے لیے ہمارے کپڑے سینا مشکل، وہ اس کام سے ’گھبراتے‘ کیوں ہیں؟

یونین کے صدر الیکس مارشل کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام پورے ملک میں نافذ ہوا تو مزدوروں پر اس کے تباہ کن معاشی اثرات مرتب ہوں گے اور حکومت و مقامی اداروں پر ان روبوٹس پر پابندی کے لیے دباؤ بڑھایا جائے گا۔

ادھر تحقیقی ادارے ٹرانسفارما انسائٹ کی گزشتہ سال جاری رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خودکار ڈلیوری روبوٹس کی تعداد آئندہ برسوں میں تیزی سے بڑھے گی اور سنہ 2034 تک تقریباً 21 لاکھ (2.1 ملین) روبوٹس مختلف ممالک میں کام کر رہے ہوں گے۔

فی الحال مختلف ممالک میں ان روبوٹس سے متعلق قوانین ایک جیسے نہیں ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے نسبتاً نرم پالیسی اختیار کی ہے، جبکہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو نے 2021 سے فٹ پاتھوں پر ان کے استعمال پر پابندی لگا رکھی ہے اور سان فرانسسکو نے بھی انہیں صرف کم رش والے علاقوں تک محدود کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ’انسان بمقابلہ مشین‘ چیلنج: 10 گھنٹے کے مقابلے میں روبوٹس کو شکست کا سامنا

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی عام ہوتی جائے گی، حکومتوں کو عوامی تحفظ، شہری سہولت، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے واضح اور جامع قوانین مرتب کرنا ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp