برطانوی شاہی خاندان میں مالیاتی شفافیت کو بڑھانے کی ایک نئی اور تاریخی کوشش کے تحت، شاہی حکام نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ بادشاہ چارلس نے 2022 میں تخت سنبھالنے کے بعد سے اب تک 30 ملین پاؤنڈ سے زیادہ کا ذاتی ٹیکس ادا کیا ہے۔
برطانیہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ شاہی خاندان کے ٹیکسوں کے اعداد و شمار اس طرح عوامی سطح پر لائے گئے ہیں، جس سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ شاہ چارلس اب برطانیہ کے 100 سب سے بڑے ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
بکنگھم پیلس منتقل نہ ہونے کا حیران کن فیصلہ
ان انکشافات کے ساتھ ہی بکنگھم پیلس کے مستقبل کے بارے میں بھی ایک اہم اعلان سامنے آیا ہے۔ شاہ چارلس اس تاریخی محل کی 10 سالہ طویل اور 487 ملین ڈالر کی بھاری لاگت سے ہونے والی تزئین و آرائش کی تکمیل کے بعد بھی وہاں منتقل نہیں ہوں گے۔
اس کے بجائے وہ اور ملکہ کمیلا اپنے طویل عرصے سے قائم رہائشی ٹھکانے ‘کلیئرس ہاؤس‘ میں ہی مستقل قیام پذیر رہیں گے۔
رضاکارانہ ٹیکس کی ادائیگی اور ‘سوورین گرانٹ‘ میں کمی
اگرچہ برطانوی قانون کے مطابق بادشاہ انکم ٹیکس، کیپٹل گینز یا وراثتی ٹیکس ادا کرنے کا پابند نہیں ہے، تاہم شاہ چارلس نے رضاکارانہ طور پر یہ ٹیکس ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ روایت ان کی والدہ ملکہ الزبتھ دوم نے 1993 میں شروع کی تھی۔
بادشاہ کے خزانچی اور ‘کیپر آف دی پریوی پرس‘ جیمز چالمرز کے مطابق، شاہ چارلس نے مالی سال 24-2023 کے لیے 11.7 ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا، جس سے ان کی کل رقم 30 ملین پاؤنڈ سے تجاوز کر گئی۔
دوسری جانب ولی عہد شہزادہ ولیم کے دفتر نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مالی سال 25-2024 میں 7.76 ملین پاؤنڈ کا ٹیکس ادا کیا ہے۔
مزید برآں، حکام نے شاہی خاندان کو دی جانے والی سرکاری فنڈنگ (سوورین گرانٹ) میں بھی بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔
یہ گرانٹ مالی سال 27-2026 کے لیے بڑھ کر 137.9 ملین پاؤنڈ تک جائے گی، لیکن بادشاہ کی واضح خواہش پر مالی سال 28-2027 میں اسے کم کر کے 100 ملین پاؤنڈ کر دیا جائے گا، کیونکہ محل کی تزئین و آرائش کے اخراجات اب ختم ہو رہے ہیں۔
بکنگھم پیلس ‘مونارکی ہیڈکوارٹر‘ رہے گا
شاہ چارلس کے کلیئرس ہاؤس میں رہنے کے فیصلے کے باوجود، بکنگھم پیلس ہی برطانوی ’بادشاہت کا ہیڈکوارٹر‘ رہے گا۔
جیمز چالمرز کا کہنا ہے کہ یہ عمارت قومی عمارتوں کا تاج ہے اور جب بھی بادشاہ لندن میں ہوں گے، ان کا شاہی معیار (اسٹینڈرڈ) چھت پر لہراتا رہے گا۔ یہ محل ریاستی دوروں، سرکاری تقریبات اور فرائض کی میزبانی جاری رکھے گا۔
بادشاہ کے اس فیصلے سے عوام اور سیاحوں کو بکنگھم پیلس تک رسائی کے مزید مواقع ملیں گے، جہاں پہلے ہی سالانہ 7 لاکھ سے زیادہ سیاح آتے ہیں۔ تاہم بادشاہ محل کے اندر اپنے ذاتی کمرے برقرار رکھیں گے تاکہ بوقتِ ضرورت انہیں استعمال کیا جا سکے۔
شاہی اقدامات پر ملا جلا ردعمل
شفافیت کی جانب اس پیش قدمی پر برطانوی عوام اور سیاست دانوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں کچھ حلقے اسے سراہ رہے ہیں، وہاں انسدادِ بادشاہت گروپ ‘ریپبلک‘ کے چیف ایگزیکٹو گراہم اسمتھ سمیت ناقدین نے ان انکشافات کو دکھاوا اور ناکافی قرار دیا ہے۔
گراہم اسمتھ کا کہنا ہے کہ شاہی رپورٹنگ کا یہ طریقہ گمراہ کن ہے، جس میں جتنے حقائق ظاہر کیے جاتے ہیں، اتنے ہی نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔
اس تنقید کے باوجود، شاہی گھرانہ اپنے امور جاری رکھے ہوئے ہے اور ان کا اصرار ہے کہ یہ مالیاتی تبدیلیاں ادارے کو جدید بنانے اور عوام کے سامنے جوابدہی کو یقینی بنانے کی ایک مخلصانہ کوشش کا حصہ ہیں۔














