دنیا بھر میں بچوں اور والدین کے دلوں میں گھر کرنے والی معروف امریکی ماہرِ تعلیم اور مقبول ترین یوٹیوبر مس ریچل (ریچل اکیورسو) نے غزہ میں معصوم بچوں کی ابتر انسانی صورتحال پر عالمی رہنماؤں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک انتہائی جذباتی ویڈیو پیغام میں اقوامِ متحدہ کے قائم کردہ ’آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری‘ کی حالیہ رپورٹ ہاتھ میں تھام کر عالمی رہنماؤں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ، ’جب معصوم بچوں کا قتلِ عام ہو رہا تھا، تب آپ کہاں تھے؟‘
بچوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے ناقابلِ تردید شواہد
مس ریچل نے اقوامِ متحدہ کی دل دہلا دینے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اب تک 20 ہزار سے زیادہ بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ بے شمار معصوم اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ: اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی، فضائی حملوں میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید
اس کے علاوہ لاکھوں بچے ایسی بیماریوں اور کسمپرسی کے حالات کے باعث جان کی بازی ہار رہے ہیں جن کا علاج آسانی سے ممکن تھا۔
انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ رپورٹ غزہ کے بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کے ’ناقابلِ تردید شواہد‘ پیش کرتی ہے، جس میں 151 بچوں کی صرف بھوک اور پیاس کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر شہادت کا بھی لرزہ خیز ذکر موجود ہے۔
عالمی رہنماؤں کی منافقت پر سخت سوالات
اپنے ویڈیو پیغام میں یوٹیوبر نے عالمی برادری اور مقتدر حلقوں کے دہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے سوال کیا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوراً آواز اٹھانے والے غزہ کے معاملے پر گونگے اور بہرے کیوں بن گئے؟
انہوں نے جذباتی انداز میں پوچھا کہ ’آپ نے غزہ کے بچوں کے انسانی حقوق کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ ایک خاص خطے میں پیدا ہوئے تھے؟
کیا آپ نے ایک پل کے لیے بھی نہیں سوچا کہ وہ بھی اتنے ہی پیارے اور قیمتی ہیں جتنے آپ کے اپنے بچے ہیں؟ کیا ان کے دل آپ کے بچوں کی طرح نہیں دھڑکتے تھے؟‘
’طاقت، شہرت اور دولت کا تحفظ‘، خاموشی کے محرکات
مس ریچل نے عالمی شخصیات کے خوف اور مصلحت پسندی پر ضرب لگاتے ہوئے کہا کہ شاید بعض بااثر لوگوں نے اپنی ساکھ، سیاسی اقتدار یا مالی مفادات کے تحفظ کے لیے خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔
انہوں نے تلخ لہجے میں پوچھا، ’آپ اپنی شہرت، طاقت یا دولت کھونا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن آپ رات کو یہ جانتے ہوئے کیسے سکون کی نیند سوتے ہیں کہ معصوم تڑپتے رہے اور آپ نے لب تک نہ ہلائے؟‘
آن لائن ہراسانی کے باوجود عزم برقرار
واضح رہے کہ مس ریچل اس سے قبل بھی فلسطین سمیت دنیا کے مختلف جنگ زدہ علاقوں کے بچوں کے لیے فنڈ ریزنگ اور انسانی امداد کی کھل کر حمایت کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:8 مسلم ممالک کی اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سےفلسطینیوں پر تشدد کی شدید مذمت
اس انسانی ہمدردی کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید، بائیکاٹ کی مہم اور آن لائن ہراسانی کا بھی سامنا کرنا پڑا، مگر ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔
وہ اس وقت ’فلسطین چلڈرنز ریلیف فنڈ‘کی عالمی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ان کا مستقل مؤقف ہے کہ، ’بچوں کا تحفظ کوئی سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی ذمہ داری ہے۔‘
’خاموشی سب سے بڑی ناکامی ہے‘
اپنے پیغام کے اختتام پر بچوں کو محبت، ہمدردی، امن اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا درس دینے والی معلمہ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی اس بے پناہ تکلیف پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا موجودہ انسانی تہذیب اور ہمارے اجتماعی نظام کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔














