سعودی عرب، پاکستان اور دیگر 6 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے اور مسلسل تشدد کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی علاقوں کے اسرائیل میں انضمام کے خلاف اقوام متحدہ میں پاکستان سمیت 8 ممالک کا مشترکہ بیان
ان ممالک بشمول سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں کے یہ حملے مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں کی حرمت کی صریح خلاف ورزی ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی غیر قانونی اقدامات کی بھی مذمت کی ہے۔
بیان میں حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ جیلجلیہ کے گاؤں میں واقع مسجدِ کبریٰ اور رام اللہ کے شمال میں واقع مزرعہ النوبانی کے علاقے میں مسجد الفاروق پر ہونے والے حملے بھی شدید قابلِ مذمت ہیں۔
مزید پڑھیے: فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو امریکا اور یورپ سمیت 58 ممالک میں ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی اقدامات خطے میں عدم استحکام، تشدد اور انتہاپسندی کو بڑھا رہے ہیں جبکہ یہ عالمی سطح پر امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل کو، بطور قابض طاقت، ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔
#Statement | The Foreign Ministers of Saudi Arabia, Jordan, UAE, Qatar, Indonesia, Pakistan, Egypt, and Türkiye condemn in the strongest terms the continued and escalating settler violence against Palestinians in the occupied West Bank, including recent attacks on the Grand… pic.twitter.com/pPhE6rjvv5
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) June 18, 2026
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور مؤثر اقدامات کے ذریعے اسرائیل کو مغربی کنارے میں جارحانہ کارروائیاں روکنے، غیر قانونی اقدامات ختم کرنے اور آبادکاروں کے تشدد کا خاتمہ کرنے پر مجبور کرے اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خود ارادیت اور آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا جس کی سرحدیں سنہ 1967 کی حدود پر مبنی ہوں اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔
انہوں نے دو ریاستی حل کے تحت منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کی بھی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔














