لداخ میں بھارتی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ ہوگیا ہے، لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے 23 جون 2026 کو لداخ بھر میں بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
20 جون 2026 کو لداخ کی سول سوسائٹی کے گروپوں لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے اعلان کیاکہ 23 جون کو مکمل ہڑتال کی جائے گی، جس پر عمل کیا گیا۔ یہ احتجاج بھارتی حکومت کی جانب سے 22 مئی کے فیصلوں سے انکار کرنے اور اجلاس کے طے شدہ منٹس جاری کرنے میں دانستہ تاخیر کے خلاف کیا گیا۔
مزید پڑھیں: لداخ میں بھارتی جبر میں اضافہ، اپنے حق کے لیے احتجاج کو روکنے کے لیے اقدامات میں مزید سختی
لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے بھارتی وزارت داخلہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ لداخ کے ساتھ طے شدہ فیصلوں اور تحریری ریکارڈ سے منحرف ہو رہی ہے، جس پر عوامی گروپوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔
عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں مودی سرکار کی نیت پر شبہ ہے اور لداخ کے عوام کے ساتھ ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے کا دھوکہ کیا جا رہا ہے۔
ان گروپوں کے مطابق بھارتی حکومت فیصلوں پر عملدرآمد روکنے کے لیے دلائی لاما کے دورے کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مذہبی دورے کی آڑ میں مودی سرکار لداخ کا سودا کرنا چاہتی ہے، جبکہ دلائی لاما کا دورہ انہیں خاموش نہیں کرا سکتا۔
لداخ کی سول سوسائٹی کے مطابق منتخب وزیراعلیٰ اور بااختیار اسمبلی کا وعدہ کیا گیا تھا، جبکہ لداخ کو مقامی معاملات پر تمام انتظامی و مالیاتی حقوق دینا بھی طے پایا تھا۔
عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 371 اے، ایف اور جی کے تحت لداخ کو خصوصی حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم بھارتی حکومت اپنے ہی مکتوب سے مکر گئی ہے۔
ان کے مطابق بھارتی حکومت کی بدعہدی اور منافقت کے باعث لداخ کے عوام اور نئی دہلی کے درمیان خلیج بڑھ گئی ہے، جس نے پورے خطے کو ہڑتال پر مجبور کر دیا ہے۔
عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار لداخ کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث خطے میں احتجاج کی نئی لہر نے جنم لے لیا ہے۔
ان کے مطابق اصلاحات سے یوٹرن اور دانستہ تاخیر نے لداخ کے چپے چپے میں بھارتی تسلط کے خلاف عوامی غیظ و غضب میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔
گروپوں کا کہنا ہے کہ لداخ کی خودمختاری اور آئینی حقوق پر بھارتی شب خون مارا گیا ہے، جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ نئی دہلی سرکار صرف منظم دھوکہ دہی پر چلتی ہے۔
ان کے مطابق منتخب اسمبلی کا حق چھین کر بھارت نے لداخ کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا ہے اور جمہوریت کا نام و نشان مٹا دیا گیا ہے۔
عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 371 کے تحفظات دینے سے انکار اور نئی دہلی کے مکر جانے سے لداخ کے شہریوں کا بھارت پر اعتماد مستقل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: مودی حکومت کے جبر کے خلاف لداخ میں عوامی بغاوت شدت اختیار کر گئی
ان کے مطابق مقامی احتجاج کو کچلنے کے لیے دلائی لاما کے روحانی دورے کا سیاسی استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے بھارتی مکارانہ حکمت عملی بے نقاب ہو گئی ہے۔
گروپوں کا الزام ہے کہ انتظامی تاخیر کا ڈرامہ رچا کر بھارتی مرکزی حکومت لداخ کے قیمتی وسائل کارپوریٹ اداروں کے پاس گروی رکھنے میں مصروف ہے۔
لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے مطابق ہڑتال نے ثابت کردیا ہے کہ دلی کے جابرانہ اور اندھے کنٹرول نے خطے میں صرف نفرت اور بیگانگی کو جنم دیا ہے۔














