لداخ کے عوام کا مودی سرکار پر عدم اعتماد، آئینی حقوق کا مطالبہ زور پکڑ گیا، بھارتی حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام

اتوار 28 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لداخ میں بھارتی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ ہوگیا ہے، لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے 23 جون 2026 کو لداخ بھر میں بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔

20 جون 2026 کو لداخ کی سول سوسائٹی کے گروپوں لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے اعلان کیاکہ 23 جون کو مکمل ہڑتال کی جائے گی، جس پر عمل کیا گیا۔ یہ احتجاج بھارتی حکومت کی جانب سے 22 مئی کے فیصلوں سے انکار کرنے اور اجلاس کے طے شدہ منٹس جاری کرنے میں دانستہ تاخیر کے خلاف کیا گیا۔

مزید پڑھیں: لداخ میں بھارتی جبر میں اضافہ، اپنے حق کے لیے احتجاج کو روکنے کے لیے اقدامات میں مزید سختی

لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے بھارتی وزارت داخلہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ لداخ کے ساتھ طے شدہ فیصلوں اور تحریری ریکارڈ سے منحرف ہو رہی ہے، جس پر عوامی گروپوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔

عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں مودی سرکار کی نیت پر شبہ ہے اور لداخ کے عوام کے ساتھ ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے کا دھوکہ کیا جا رہا ہے۔

ان گروپوں کے مطابق بھارتی حکومت فیصلوں پر عملدرآمد روکنے کے لیے دلائی لاما کے دورے کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مذہبی دورے کی آڑ میں مودی سرکار لداخ کا سودا کرنا چاہتی ہے، جبکہ دلائی لاما کا دورہ انہیں خاموش نہیں کرا سکتا۔

لداخ کی سول سوسائٹی کے مطابق منتخب وزیراعلیٰ اور بااختیار اسمبلی کا وعدہ کیا گیا تھا، جبکہ لداخ کو مقامی معاملات پر تمام انتظامی و مالیاتی حقوق دینا بھی طے پایا تھا۔

عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 371 اے، ایف اور جی کے تحت لداخ کو خصوصی حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم بھارتی حکومت اپنے ہی مکتوب سے مکر گئی ہے۔

ان کے مطابق بھارتی حکومت کی بدعہدی اور منافقت کے باعث لداخ کے عوام اور نئی دہلی کے درمیان خلیج بڑھ گئی ہے، جس نے پورے خطے کو ہڑتال پر مجبور کر دیا ہے۔

عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار لداخ کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث خطے میں احتجاج کی نئی لہر نے جنم لے لیا ہے۔

ان کے مطابق اصلاحات سے یوٹرن اور دانستہ تاخیر نے لداخ کے چپے چپے میں بھارتی تسلط کے خلاف عوامی غیظ و غضب میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔

گروپوں کا کہنا ہے کہ لداخ کی خودمختاری اور آئینی حقوق پر بھارتی شب خون مارا گیا ہے، جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ نئی دہلی سرکار صرف منظم دھوکہ دہی پر چلتی ہے۔

ان کے مطابق منتخب اسمبلی کا حق چھین کر بھارت نے لداخ کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا ہے اور جمہوریت کا نام و نشان مٹا دیا گیا ہے۔

عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 371 کے تحفظات دینے سے انکار اور نئی دہلی کے مکر جانے سے لداخ کے شہریوں کا بھارت پر اعتماد مستقل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: مودی حکومت کے جبر کے خلاف لداخ میں عوامی بغاوت شدت اختیار کر گئی

ان کے مطابق مقامی احتجاج کو کچلنے کے لیے دلائی لاما کے روحانی دورے کا سیاسی استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے بھارتی مکارانہ حکمت عملی بے نقاب ہو گئی ہے۔

گروپوں کا الزام ہے کہ انتظامی تاخیر کا ڈرامہ رچا کر بھارتی مرکزی حکومت لداخ کے قیمتی وسائل کارپوریٹ اداروں کے پاس گروی رکھنے میں مصروف ہے۔

لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے مطابق ہڑتال نے ثابت کردیا ہے کہ دلی کے جابرانہ اور اندھے کنٹرول نے خطے میں صرف نفرت اور بیگانگی کو جنم دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا یو این سیکریٹری جنرل کی امیدوار سے رابطہ، یواین قراردادوں پر دیانتدارانہ عملدرآمد پر زور

اٹلی کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد لڑکی کے قتل کیس میں 5 رشتہ داروں کی سزائیں برقرار رکھ دیں

’صرف ڈگری نہیں، بچوں کی کردار سازی پر بھی توجہ دیں‘، عدنان صدیقی کا والدین کو نصیحت بھرا پیغام

2027 میں 9 نئے ایموجیز متعارف کرائے جائیں گے، اچار اور شہابِ ثاقب بھی شامل

حکومت نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نئے سفری قوانین نافذ کر دیے

ویڈیو

عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی لیاری آمد، فٹبال اور باکسنگ کے فروغ کے لیے اکیڈمی بنانے کا عندیہ

گورنر ہاؤس میں ’ارفع کریم اے آئی سمر کیمپ‘، جہاں بچے مستقبل کی ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہیں

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

کالم / تجزیہ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری