کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی، زبیر شاہ آغا گرفتار، ’پی ٹی ایم، بی وائی سی‘ گٹھ جوڑ بے نقاب

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

زبیر شاہ آغا، جو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے مرکزی اطلاعاتی رابطہ کار اور مرکزی کمیٹی کے رکن ہیں، کی گرفتاری کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کالعدم تنظیموں اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف جاری کارروائی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ زبیر شاہ آغا کو کوئٹہ پولیس نے حراست میں لیا، جبکہ یہ اقدام پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کیے جانے والے قانونی اقدامات کی کڑی ہے۔

جاری کردہ مؤقف میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے انسداد دہشتگردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت پی ٹی ایم کو کالعدم تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ حکام کے مطابق تنظیم پر ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے، غیر قانونی اجتماعات منعقد کرنے، دہشتگرد عناصر کی معاونت کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، اسی بنیاد پر اس کے ارکان کے خلاف قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:عوامی مراکز کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے والے افغان طالبان کا پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی ایم اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ریاستی اداروں کے نزدیک ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نسلی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرکے بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں عدم استحکام کو فروغ دینا ہے۔

مؤقف کے مطابق دونوں تنظیموں کا گٹھ جوڑ نام نہاد انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی آڑ میں ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، جبکہ ان پر کالعدم تنظیموں ’بی ایل اے، بی ایل ایف اور ٹی ٹی پی‘ کے بیانیے کی حمایت کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خودمختار ریاست ہونے کے ناتے پاکستان کو ایسے گروہوں کی تحقیقات اور نگرانی کا حق حاصل ہے جن کی مالی معاونت، بین الاقوامی لابنگ اور ڈیجیٹل مہمات مبینہ طور پر دشمن ممالک کے مفادات سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔

حکام کے مطابق پی ٹی ایم اور بی وائی سی کی سرگرمیوں اور بیانیے سے ایسے خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ ان کا مقصد پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور اہم معاشی منصوبوں کو نشانہ بنانا ہے۔

مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی اختلاف رائے اس وقت اپنی جمہوری حیثیت کھو دیتا ہے جب کسی تنظیم کی قیادت دہشتگرد گروہوں کی حمایت، ان کے اقدامات کا جواز پیش کرنے یا ان کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرنے لگے۔ بیان کے مطابق ریاست ایسے گروہوں کو برداشت نہیں کر سکتی جو دہشتگرد تنظیموں کے لیے نظریاتی یا بیانیاتی سہولتکار کا کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں:بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا

بیان میں لاپتا افراد کے معاملے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ پی ٹی ایم اور بی وائی سی اس مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مؤقف کے مطابق جن افراد کو لاپتا قرار دیا جاتا ہے، ان میں سے بعض سیکیورٹی اداروں کی قانونی جانچ پڑتال کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں، جبکہ بعض سرحد پار دہشتگرد تنظیموں میں شامل ہو چکے ہوتے ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستان بیرونی انسانی حقوق کی بعض تنظیموں اور بیرون ملک قائم گروپوں کی مداخلت کو مسترد کرتا ہے، کیونکہ ان کے بقول وہ خطے میں جاری سرحد پار ہائبرڈ جنگ اور دہشتگردی کی حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق تمام کارروائیاں ملکی آئین اور قانون کے دائرہ کار میں کی جاتی ہیں تاکہ ملک کے شہریوں کو دہشتگردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp