عوامی مراکز کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے والے افغان طالبان کا پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان کی جانب سے مسلسل پاکستان پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے کابل میں اسپتال (منشیات بحالی مرکز) کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اصل حقائق کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق منشیات بحالی مرکز سے متعلق بیانیے میں وسیع تر آپریشنل صورتحال کو نظر انداز کیا گیا، جس میں کابل کے گنجان آباد شہری علاقوں میں عسکری ڈھانچے، غیر ملکی دہشتگردوں اور اسلحے کے ذخیرے کی موجودگی شامل ہے۔

ایک تنظیم ’افغانستان گرین ٹرینڈ‘ جس کی قیادت سابق نائب صدر اور انٹیلی جنس چیف امراللہ صالح کرتے ہیں، نے 2 مئی 2026 کو کابل کے باغِ قاضی علاقے میں شہری آٹے کی مارکیٹ کے قریب قریباً 23 کنٹینرز اسلحہ اور گولہ بارود منتقل کیے جانے کا انکشاف کیا، جس سے شہری انفراسٹرکچر کی منظم عسکریت کاری پر خدشات مزید بڑھ گئے۔

رپورٹ کے مطابق اس اسپتال کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا، تاہم آگ کا زیادہ وقت تک جاری رہنا اور ملبے کے اثرات اس خدشے کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ علاقے میں گولہ بارود یا عسکری ڈھانچے موجود تھے۔

جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 18 کے مطابق شہری اسپتال اور طبی مراکز اس وقت تک محفوظ تصور کیے جاتے ہیں جب تک وہ مکمل طور پر انسانی ہمدردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں اور واضح طور پر شہری حیثیت میں ہوں۔

جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 19 کے مطابق اگر کسی سہولت کو فریق مخالف کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جائے، جیسے اسلحہ ذخیرہ کرنا یا عسکری سرگرمیوں کی منصوبہ بندی، تو اس کی حفاظتی حیثیت ختم ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہری اور فوجی اہداف کے درمیان واضح فرق، نشان دہی اور علیحدگی لازمی ہے۔ اس تناظر میں عسکری قربت اور حفاظتی حیثیت سے متعلق سوالات برقرار ہیں۔

روم اسٹیچوٹ کے آرٹیکل 8(2)(b)(ix) کے مطابق اگر کوئی سہولت عسکری لاجسٹکس یا جنگی سرگرمیوں میں شامل ہو جائے تو وہ قانونی طور پر فوجی ہدف تصور ہو سکتی ہے، چاہے اسے شہری قرار دیا گیا ہو۔

رپورٹ کے مطابق طالبان طویل عرصے سے جنگجوؤں، اسلحے اور عسکری اثاثوں کو گھروں، مساجد، اسکولوں اور شہری علاقوں میں چھپانے کا طریقہ کار استعمال کرتے رہے ہیں۔

شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کو عسکری مقاصد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اضافی پروٹوکول ایک کے آرٹیکل 51(7) کی خلاف ورزی ہے، جو انسانی ڈھال کے استعمال سے منع کرتا ہے۔

طالبان کے پروپیگنڈا نیٹ ورک پر الزام ہے کہ وہ ہلاکتوں کے جذباتی بیانیے کو تیزی سے پھیلاتے ہیں جبکہ قریبی عسکری ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور غیر ملکی دہشتگردوں کی موجودگی پر سوالات کو محدود کرتے ہیں۔

طالبان کی جانب سے دہشتگردوں کی موجودگی سے انکار کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کے زیرِ انتظام افغانستان میں 20 سے زیادہ دہشتگرد تنظیمیں، جیسے ٹی ٹی پی، القاعدہ، آئی ایس کے پی اور ای ٹی آئی ایم، سرگرم ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں تصدیق شدہ دہشت گرد ڈھانچوں، عسکری لاجسٹکس اور سرحد پار حملوں کے ذمہ دار نیٹ ورکس کے خلاف ہوتی ہیں۔

شہری نقصان کی ذمہ داری ان عناصر پر عائد کی جاتی ہے جو شہری علاقوں کو عسکری بناتے ہیں اور شہری و عسکری مقامات کے درمیان فرق کو جان بوجھ کر دھندلا دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp