اڈیالہ جیل بریک واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں جبکہ جیل منتقل کیے جانے کے دوران پولیس وین سے فرار ہونے والے 14 قیدیوں اور غفلت برتنے کے الزام میں 5 پولیس اہلکاروں کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لانڈھی جیل بریک: قیدیوں کے فرار کی وجہ زلزلہ یا کچھ اور، تحقیقات کیا کہتی ہیں؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز پیش آنے والے اس واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق فرار ہونے والے قیدیوں نے پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں سرخ مرچوں کا پاؤڈر پھینکا جس کے بعد وہ پولیس کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
یہ واقعہ اسلام آباد کے تھانہ سہالہ کی حدود میں پیش آیا جہاں قیدیوں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا تھا۔
مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 224 (قانونی گرفتاری میں مزاحمت)، 353 (سرکاری اہلکار کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملہ یا طاقت کا استعمال)، 186 (سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ)، 34 (مشترکہ نیت کے تحت کیے گئے اقدامات) اور 120-B (مجرمانہ سازش) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
دوسری جانب واقعے کے وقت موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 223 (سرکاری ملازم کی غفلت کے باعث قیدی کا فرار) اور پولیس آرڈر 2002 کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
مقدمے کے اندراج کے لیے دی گئی درخواست میں پولیس ڈرائیور امتیاز احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ پیر کی شام تقریباً 4 بج کر 45 منٹ پر جب پولیس وین چکیاں اسٹاپ کے قریب پہنچی تو قیدیوں نے گاڑی کے اندر شور شرابہ اور لڑائی جھگڑا شروع کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے پہلے زبانی طور پر قیدیوں کو روکنے کی کوشش کی تاہم جب وہ نہ مانے تو وہ کانسٹیبل طاہر محمود کے ہمراہ وین کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔ اس دوران قیدیوں نے ان کی آنکھوں میں سرخ مرچوں کا پاؤڈر پھینک دیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔
مزید پڑھیے: ملیر جیل سے فرار ہونے والےمزید 4 قیدی گرفتار، 68 تاحال مفرور
امتیاز احمد کے مطابق پولیس اہلکاروں نے شدید دشواری کے بعد اپنے ہتھیار نکالے اور فرار ہونے والے قیدیوں کا تعاقب کرنے کی کوشش کی جبکہ اسی دوران ریسکیو 15 کو بھی واقعے کی اطلاع دے دی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق، بعد ازاں معلوم ہوا کہ مجموعی طور پر 14 قیدی فرار ہوئے تھے۔ تاہم تھانہ سہالہ کے ایس ایچ او پولیس کی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور فرار ہونے والے 4 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
مقدمے میں نامزد پولیس اہلکاروں میں ڈرائیور امتیاز احمد، ہیڈ کانسٹیبل طاہر محمود، کانسٹیبل محرم شہزاد، کانسٹیبل شفقت احمد اور کانسٹیبل نذیر احمد شامل ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو اسپتال سے ایک زیرِ سماعت قیدی کے فرار ہونے کے بعد 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی فرار، 4 کو دوبارہ پکڑ لیا گیا
اسی طرح گزشتہ سال کراچی کی ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے 200 سے زائد قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جسے صوبائی وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جیل بریک واقعات میں سے ایک قرار دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صوبائی جیل حکام کے خلاف سخت انتظامی کارروائی بھی کی تھی۔











