یوکرین کے خفیہ ڈرون دستے کی کہانی، اہلخانہ بھی بے خبر

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 روس کے اندر گہرائی تک حملے کرنے والے یوکرین کے خفیہ ڈرون دستے انتہائی سخت رازداری کے ساتھ کام کرتے ہیں، جہاں اہلکاروں کے اہلخانہ، دوست حتیٰ کہ والدین کو بھی ان کی اصل ذمہ داری کا علم نہیں ہوتا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ان اہلکاروں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا کسی سے ذکر نہ کریں، صرف نقد رقم استعمال کریں، اپنے موبائل فون ہر وقت فلائٹ موڈ پر رکھیں اور کسی بھی ایسی سرگرمی سے گریز کریں جس سے ان کی شناخت ظاہر ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین کے ان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں نے روس کے فوجی اڈوں، آئل ریفائنریوں اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا، جس سے روس کو دفاعی اور معاشی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، کریملن کے قریب آئل ریفائنریاں شعلوں کی نذر

اے ایف پی سے گفتگو کرنے والے ایک اہلکار، جس کا فرضی نام ڈینس بتایا گیا، نے کہا کہ انہیں سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ اپنی کارروائیوں پر کبھی فخر نہ کریں اور جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ان کے بارے میں بات نہ کریں۔

ڈینس کے مطابق وہ 2025 سے ان کارروائیوں کا حصہ ہیں، لیکن ان کے دوست اور والدین آج بھی نہیں جانتے کہ وہ کس نوعیت کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یوکرین کے ڈرون دستے نے جون میں ماسکو کی ایک آئل ریفائنری اور سینٹ پیٹرزبرگ میں بھی اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں روس کی جانب سے یوکرینی شہروں پر روزانہ ہونے والے حملوں کا جواب ہیں اور ان کا مقصد روس کی ایندھن سے حاصل ہونے والی آمدنی کو متاثر کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روسی جوہری پلانٹ میں آگ بھڑک اُٹھی

ایک اور اہلکار، جس کا فرضی نام ورون بتایا گیا، نے کہا کہ وہ پہلے مصور اور مارشل آرٹس کے تربیت کار تھے، جبکہ اب شادی شدہ ہونے کے باوجود ان کی اہلیہ صرف اندازہ لگاتی ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں، لیکن کبھی سوال نہیں کرتیں۔

انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر بھی وہ اپنی اصل یونٹ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ اپنی سابقہ فوجی یونٹ کی تصاویر شیئر کرتے ہیں تاکہ کسی کو ان کی موجودہ ذمہ داری کا علم نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق ان اہلکاروں کو عوامی مقامات پر عام شہریوں کی طرح رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ وہ سادہ کپڑے پہنتے ہیں، مشن سے متعلق الفاظ استعمال نہیں کرتے، مختلف اے ٹی ایمز سے رقم نکالتے ہیں، حتیٰ کہ پٹرول پمپوں کے لائلٹی پروگراموں میں بھی شامل نہیں ہوتے تاکہ ان کی نقل و حرکت کا ریکارڈ نہ بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں: رومانیہ کی بندرگاہ پر بحری ڈرون دھماکا، یوکرین کا روس پر سگنل جام کرنے کا الزام، کشیدگی میں اضافہ

اے ایف پی کے مطابق ان اہلکاروں کے فوجی رابطوں کے لیے خصوصی خفیہ مواصلاتی آلات استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ جغرافیائی محل وقوع ظاہر کرنے والے تمام آلات پر پابندی ہے۔ اگر معلومات افشا ہونے کا شبہ ہو یا نئے اہلکار بھرتی کیے جائیں تو ان کا جھوٹ پکڑنے والے آلے کے ذریعے بھی امتحان لیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کے لیے اب سب سے بڑا مسئلہ ڈرونز کی کمی نہیں بلکہ وقت کی کمی ہے، کیونکہ حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈینس نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ایک دن ان کے یونٹ کا حملہ کریملن تک پہنچے۔ ان کے بقول یہ طویل فاصلے تک کیے جانے والے حملے روس کے لیے ایسے ہیں جیسے اس کے قدموں تلے برف آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہو، اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ دباؤ مزید بڑھتا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp