بھارت میں بعض معروف ماہرین، سفارت کاروں اور آبی امور کے تجزیہ کاروں نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے کئی قانونی اور اصولی نکات کی حمایت یا کم از کم ان کی جزوی تائید کی ہے۔ ا ن میں اُتم کمار سنہا ہیں جو منوہر پریکار انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ اینیلسز سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سندھ طاس معاہدہ کو دنیا کے کامیاب ترین معاہدوں میں شمار کرتے ہیں۔
وہ تسلیم کرتے ہیں کہ معاہدہ 1960 کے ہائیڈرولوجیکل حالات پر مبنی تھا۔ موجودہ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس کی بنیادیں متاثر کی ہیں۔ وہ پاکستان کے اس موقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان جیسی زیریں ریاست کی آبی سلامتی ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ معاہدہ پر نظرثانی ہونی چاہیے اور اسے اپ ڈیٹ کرنا چاہیے۔ ان کا یہ موقف پاکستان کے دیرینہ مطالبے کے قریب تر سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
اشوک سوائن بھی ایک معروف بھارتی تجزیہ کار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت کو پانی کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ وہ مانتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدہ توڑا گیا یا اسے کمزور کیا گیا تو اس سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا۔ وہ پاکستان کے اس موقف کی حمایت کرتے ہیں کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ وہ معاہدے کے تحفظ کے حامی ہیں، جو پاکستان کے بنیادی مؤقف سے ہم آہنگ ہے۔
برہما چیلانی بھی اہم بھارتی ماہر ہیں۔ وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت کی پانی سے متعلق حکمت عملی خطے میں جیو پولیٹیکل پریشر کا عنصر رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دریائی نظام اب صرف قانونی نہیں بلکہ سیکیورٹی ایشو بن چکا ہے۔ ان کا تجزیہ پاکستان کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت پانی کو اب سیاسی ہتھیار بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سندھ طاس معاہدہ: بھارت نے کب، کون سی خلاف ورزی کی؟
اسی طرح دیگر متعدد بھارت کے غیر سیاسی بھارتی آبی ماہرین (خاص طور پر ہائیڈرولوجی اور کلائمیٹ سائنس سے وابستہ) یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی آبی ڈی پینڈنس انتہائی زیادہ ہے۔ کیونکہ پاکستان کی 80% زراعت ان دریاؤں پر منحصر ہے۔ اس لیے کسی بھی بڑے بہاؤ میں تبدیلی انسانی بحران پیدا کر سکتی ہے ۔ وہ پاکستان کے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ پرانا ہوچکا ہے، اسے اب موسمیاتی حقائق کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
یاد ہے کہ بھارت میں کوئی بھی فرد کھل کر پاکستان کے مکمل موقف کی حمایت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ اس تناظر میں مذکورہ بالا ماہرین اور تجزیہ کاروں کا پاکستان کے موقف سے اتفاق کرنا ثابت کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت کی طرف سے اس کی خلاف ورزیاں انسانی بحران کو شدید سے شدید تر بنا رہی ہیں۔













