سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی نام نہاد معطلی یا اس سے انحراف کی بھارتی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کو اس کے جائز حصے سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ضامن‘ کے عنوان سے ہونے والی تقریب میں سیاسی رہنماؤں، قانونی ماہرین، بین الاقوامی اسکالرز، سفارتی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: بیشتر بھارتی ماہرین بھی پاکستان کے موقف کے حامی ہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ مقررین نے پانی کو ہتھیار بنانے اور یکطرفہ اقدامات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے زور دیا کہ آبی تنازعات کا حل متفقہ اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ شرکا نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اس کے مشترکہ آبی وسائل سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

ترجمان نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی نام نہاد معطلی کی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور بے بنیاد ہے، جسے پاکستان دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ اصل تشویش بھارتی قیادت میں بڑھتے ہوئے اس رجحان پر ہے جس کے تحت پانی کو ایک ایسے تزویراتی اثاثے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے روکا، موڑا یا کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یکطرفہ قبضے اور کنٹرول کی یہ سوچ نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ بین الاقوامی قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: بھارت نے کب، کون سی خلاف ورزی کی؟

انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور پاکستان کے جائز حصے کے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش بھارت کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی اور معاہدوں کی پاسداری سے متعلق اس کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس حقیقت سے غافل نہیں کہ بھارت دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبوں کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی تقسیم سے متعلق کسی بھی جامع مذاکراتی عمل میں چین کی شمولیت کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ یہ دریا ہمالیہ سے نکلتے ہیں اور ان سے بہنے والے پانی سے متعدد ممالک مستفید ہوتے ہیں، اس لیے ان تمام ممالک کو اس عمل میں شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کے اثرات ہر پاکستانی پر مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت سالانہ اجلاس 2022 سے منعقد نہیں ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو محض ایک بہانہ بنایا، جبکہ وہ اس واقعے سے بہت پہلے ہی معاہدے کو غیر مؤثر بنانے یا ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی تمام شرائط اور ذمہ داریوں پر مکمل طور پر عمل کر رہا ہے۔

ترجمان نے بریفنگ کے دوران قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ فریقین نے مختلف امور پر بات چیت جاری رکھنے اور جلد آئندہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین اور متعلقہ تقریبات کے بعد متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران سعودی عرب، چین، بحرین، ایران، برطانیہ اور یورپی یونین کے حکام کے درمیان بھی سفارتی رابطے جاری رہے۔

پاکستان کے ذریعے 70 سے زائد ایرانی شہری وطن واپس

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایران سے تعلق رکھنے والے ایک بحری جہاز کے 22 ایرانی عملے کے ارکان کو بحفاظت کراچی پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں اپنے وطن روانہ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف بحری جہازوں سے منتقل کیے گئے ایرانی شہریوں سمیت پاکستان اب تک 70 سے زائد ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کر چکا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے مقرر خصوصی ایلچی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ اسحاق ڈار نے اسلاموفوبیا جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے خصوصی ایلچی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کا ایکشن پلان جلد حتمی شکل اختیار کرے گا، جو دنیا بھر میں اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی، پاکستانی دریاؤں میں پانی کی روانی متاثر

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فضائی کارروائیاں انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ کی گئیں، جن میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف کے انتخاب اور کارروائی کے دوران غیر معمولی احتیاط برتی گئی تاکہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں ہلاک ہونے والے تمام 29 افراد دہشت گرد تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کو پاکستان کے دفاعی اداروں نے فوری طور پر ٹریک کیا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں کامیابی سے نیوٹرلائز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھاتا رہے گا۔

ترجمان نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں بھارتی پراکسی تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے مزید 3 دہشتگرد ہلاک کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے اور آئندہ بھی یہی پالیسی جاری رکھے گا۔

ترجمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں دہشتگرد حملوں کے بعد پاکستان نے ’غضب للحق‘ آپریشن کے تحت دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باضابطہ ڈی مارش بھی دیا گیا، کیونکہ ان حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی تازہ فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان افراد کے نام فہرست میں شامل کرتا ہے جن کے بارے میں اخبارات میں خبریں سامنے آتی ہیں یا جن کے اہل خانہ حکومت سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے اندازوں کے مطابق بھارت میں 700 سے زائد پاکستانی قید ہیں، جبکہ بھارت کی فراہم کردہ فہرست میں 400 سے زائد پاکستانی شہریوں کا اندراج ہے۔

فاروق آباد گردوارہ: بھارت کو اقلیتوں پر لیکچر دینے کا حق نہیں

فاروق آباد میں گردوارہ گرائے جانے کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ حکومت نے واقعے کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔ ان کے مطابق گردوارہ انتہائی خستہ حال تھا، وہاں سکھ آبادی موجود نہیں تھی اور نہ ہی وہ عبادت کے لیے استعمال ہو رہا تھا، جبکہ اس کی مخدوش حالت اردگرد کے مکانات کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی اجازت کے بغیر ایک کرایہ دار نے عمارت منہدم کی، جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے بے دخل کر دیا گیا ہے اور عمارت کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کو اقلیتوں کے حقوق پر لیکچر دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ خود بھارت میں مساجد شہید کی جاتی ہیں اور اقلیتیں مظالم کا سامنا کر رہی ہیں۔

ترجمان نے آصف مرچنٹ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر ان کے پاس فی الحال کوئی نئی معلومات یا پیشرفت موجود نہیں۔

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری

ترجمان نے بتایا کہ صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی رہائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل پنٹ لینڈ حکام، صومالی حکومت، جہاز کے مالکان اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز کی مالک کمپنی، جس کا دفتر دبئی میں ہے، اس سے بھی رابطہ جاری ہے، جبکہ یورپی یونین کی بحری فورس کے ذریعے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ تمام یرغمالی زندہ ہیں اور انہیں خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امید ہے کہ یرغمالیوں کی جلد رہائی ممکن ہو جائے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکیہ کا دورہ کریں گے، جہاں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پہلے ایران جائیں گے اور شہید ایرانی سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے، جس کے بعد وہ ترکیہ جائیں گے جہاں ایک کاروباری کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی اور قطری ثالثوں نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مختلف پہلوؤں پر مثبت پیشرفت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت لیک لوسرن سربراہی اجلاس میں ہونے والی بات چیت کا تسلسل ہے اور دونوں فریقوں نے آئندہ دنوں میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اگلا مذاکراتی دور سابق ایرانی سپریم رہنما کی تدفینی رسومات کے بعد جلد از جلد منعقد کیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ٹرانس افغان ریلوے، کاسا-1000 اور تاپی (ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت) گیس پائپ لائن منصوبوں کے مستقبل سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی بنیادی تشویش صرف یہ ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سخت بیانات کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ ان بیانات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں یہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں تو یہ خوش آئند پیش رفت ہوگی، تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی معلومات یا تصدیق موجود نہیں۔

ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک کے مقدمے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹرائل جعلی اور غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یاسین ملک کو جلد آزادی ملے گی۔ آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ معاملے پر انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنا مؤقف پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک آئینی نوعیت کا مسئلہ ہے، جس کا حل آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے، لہٰذا اسے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں جاری حقِ خودارادیت کی تحریک کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ انہوں نے اس معاملے پر بھارت کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp