بھارت کی ریاست اتر پردیش میں مزید 5 مساجد مسمار کر دی گئی ہیں، جبکہ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق اتر پردیش میں انتظامیہ نے 5 مزید مساجد کو منہدم کر دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران مسلم مذہبی مقامات کے خلاف کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت: ہولی کے موقع پر مساجد ترپال سے ڈھک دی گئیں
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران اتر پردیش سمیت مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 23 مساجد، مدارس اور درگاہوں کو مسمار کیا جا چکا ہے۔
انتظامیہ اور حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ جن عمارتوں کے خلاف کارروائی کی گئی، وہ سرکاری زمین پر یا متعلقہ اجازت ناموں کے بغیر تعمیر کی گئی تھیں، اس لیے انہیں قانونی اور انتظامی ضابطوں کے تحت ہٹایا گیا۔
Location: Ahmad Nagar, Udam Singh Nagar, Uttarakhand
Date: July 4Authorities demolished a mazar (shrine), alleging it was an illegal encroachment occupying approximately five bighas of government land. Officials carried out the demolition under heavy police deployment. pic.twitter.com/qQNST4XiVS
— HindutvaWatch (@HindutvaWatchIn) July 4, 2026
دوسری جانب ناقدین اور مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا زیادہ تر رخ مسلم مذہبی مقامات کی جانب ہے، جس کے باعث مذہبی آزادی اور مساوی سلوک سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں مختلف ریاستوں، خصوصاً اتر پردیش میں متعدد مذہبی ڈھانچوں کے انہدام کی کارروائیاں پہلے بھی خبروں کا حصہ بنتی رہی ہیں، جن پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔










