ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

اتوار 5 جولائی 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کچھ دن پہلے ریڈیو پاکستان کے معروف صداکار اور سابق پروگرام مینیجر ریاض محمود کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ نامور انڈین اداکار اوم پرکاش کی لاہور ریڈیو اسٹیشن آمد کا ذکر کر رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ اوم پرکاش نے ممتاز سنگیت کار بھائی لال محمد کے قدموں میں بیٹھ کر ان سے عقیدت کا بے پایاں اظہار کیا تھا۔

ان کی گفتگو سن کر بھائی لال سنگیت اکیڈمی، لاہور کا وہ سوونیر میں نے تلاش کیا جسے 1982 میں بھائی لال کی بیسویں برسی کے موقع پر شائع کیا گیا تھا۔ اس میں شامل ایوب رومانی کے مضمون میں اوم پرکاش کی بھائی لال سے ملاقات کا احوال بیان ہوا ہے۔ اس سوونیر میں دونوں شخصیات کی یادگار تصویر بھی شامل ہے۔

ریاض محمود کا بیان ایک جدید ذریعہ ابلاغ کی صورت میں ہمارے سامنے آیا ہے اور دور دور تک پھیلا ہے، اس کے ساتھ ایوب رومانی کی عشروں پرانی روایت بھی نقل کر دی جائے تو فی زمانہ سنگیت ساگر بھائی لال اور اوم پرکاش کے عشاق کے لیے یہ دوآتشہ ہوگا۔

ایوب رومانی نے لکھا: ’ریڈیو پاکستان لاہور میں پیر کے پیر نئی آوازوں کا ٹیسٹ ہوتا تھا، استاد میری مدد کے لیے ہمیشہ پاس ہوتے۔ آج سے کوئی پانچ سال پہلے کی بات ہے میں اوڈیشن کررہا تھا کہ ایک شخص شارک سکن کی پتلون اور بوسکی قمیص پہنے اسٹوڈیو میں داخل ہوا اور اس نے بڑھ کر استاد کے پاؤں پکڑ لیے۔ سب لوگ حیران ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے اور وہ شخص تھا کہ استاد کے پاؤں چھوڑتا ہی نہیں تھا۔ آخر استاد نے بڑی مشکل سے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور گلے سے لگا لیا۔ اب یہ عالم تھا کہ استاد اور شاگرد دونوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلِ رواں جاری تھا۔ یہ شاگرد تھا اوم پرکاش جو ہندوستان سے صرف استاد کا درشن کرنے کے لیے آیا تھا۔ میں سوچنے لگا دیکھو یہ فلم کا ایک مقبول فنکار ہے اور بھرے پرے اسٹوڈیو میں اس نے ساری جھوٹی انا کو چھوڑ کر کیسے استاد کے پاؤں پکڑ لیے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی دل پکار اٹھا۔ واقعی استاد میں ایسی بات تو ضرور ہوگی جس کی وجہ سے یہ شخص دور دراز کا سفر طے کرکے آیا ہے اور یوں استاد کے پاؤں پر جھک گیا ہے۔

انڈین اداکار کے بھائی لال کو آدر دینے سے موسیقی کے پارکھ منیر احمد شیخ کے ان کے بارے میں مضمون کی طرف ذہن منتقل ہوا جس میں فنِ موسیقی میں ان کی مہارتِ تامہ، مختلف گھرانوں سے شرفِ تلمذ اور فن کی دولت اپنے خاندان میں محفوظ رکھنے کے بجائے اسے غیروں پر لٹانے پر یقین سمیت دیگر پہلوؤں پر بات کی گئی ہے لیکن تحریر کا آغاز اس فراموش کاری سے ہوتا ہے جو ہماری قوم کا طرۂ امتیاز ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک طرف تو ہم قحط الرجال کا رونا روتے ہیں تو دوسری طرف ہم نے اپنے کام کے آدمیوں کو جیتے جی دفنایا ہوا ہے۔ وہ اتنے بڑے استاد سے استفادے کے لیے کسی ادارے کے نہ ہونے کا ماتم کرتے ہیں اور انہیں ریڈیو میں موسیقی کے پروگراموں میں مشیر بنا دینے کو ناکافی جانتے ہیں۔ منیر احمد شیخ کے مضمون سے گائیک اور موسیقار کے طور پر بھائی لال کے مقام کو سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔

یہ حوالہ اوم پرکاش کی ایک سچے فنکار سے محبت اور اپنوں کی بے اعتنائی کے ضمن میں آیا ہے۔ اوم پرکاش کی پاکستانی تخلیق کاروں سے محبت کی اور بھی مثالیں ہیں۔

ممتاز ادیب امتیاز علی تاج نے ادب، فلم اور ریڈیو میں بڑا نام کمایا۔ ان شعبوں کی سرکردہ شخصیات کے دل میں ان کا بڑا احترام تھا۔ اوم پرکاش انہیں اپنا محسن قرار دیتے تھے۔ 1970 میں ان کے قتل کی خبر نے انہیں گہرے رنج میں مبتلا کیا۔

ڈاکٹر سلیم ملک نے ‘امتیاز علی تاج، زندگی اور فن’ میں لکھا ہے: ‘بھارتی فلموں کے معروف اداکار اوم پرکاش، تاج کے احسانوں کو برملا مانتے تھے۔ وہ ایک بار لاہور آئے تو ان کے اعزاز میں ضیافت دی گئی، اس میں انہوں نے تاج کے پاؤں چھو لیے اور لوگوں سے کہا: تاج صاحب میرے محسن ہیں۔ بعد میں تاج انتقال کرگئے تو پرکاش نے تعزیتی خط میں یاسمین طاہر کو لکھا: ‘مجھے یوں لگتا ہے، جیسے آج میرا باپ مر گیا ہے۔ میں یتیم ہوگیا ہوں۔’

گمٹی بازار میں کوچہ بیلی رام کے مکین اوم پرکاش ریڈیو کے ساتھ ساتھ لاہور کے معروف پنچولی اسٹوڈیو سے بھی وابستہ تھے اور اس کی فلم ‘داسی’ میں انہوں نے اہم کردار کیا تھا جس سے انہیں 80 روپے معاوضہ ملا تھا۔ فلم سے انہیں شہرت ضرور حاصل ہوئی پر ان کی عوامی مقبولیت آل انڈیا ریڈیو کے دیہاتی پروگرام کے رہینِ منت تھی جس میں وہ فتح دین کا پارٹ کرتے تھے۔ تقسیم کے بعد جب اوم پرکاش لاہور چھوڑ گئے تو اس پروگرام کا تذکرہ لوگوں کی زبان پر رہا اور اس کی یاد ان کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی۔

پنجابی کے معروف لکھاری کرتار سنگھ دگل آل انڈیا ریڈیو لاہور اسٹیشن سے منسلک تھے۔ ان کی آپ بیتی ‘کس پہ کھولوں گنٹھڑی’ میں اس دور کی جیتی جاگتی کہانی بیان ہوئی ہے جب لاہور ریڈیو مجمعِ اہل کمال تھا۔

ان کے ریڈیو نامے میں ہمارے ممدوح کا تذکرہ بھی شامل ہے: ’اوم پرکاش فلمی کامیڈین لاہور ریڈیو اسٹیشن کے دیہاتی پروگرام پیش کیا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ طفیل نام کا ایک اور آرٹسٹ کام کرتا تھا۔ دونوں بڑے مقبول تھے۔ جب سے ریڈیو اسٹیشن شروع ہوا دونوں مل کر دیہاتی پروگرام پیش کررہے تھے، ان کی بے شمار ڈاک آتی۔ لیکن تنخواہ دونوں کی پینتیس پینتیس روپے تھی۔ اوم پرکاش چونکہ زیادہ مقبول تھا، اس سال سارے پروگرام اسٹاف نے مل کر کوشش کی کہ اسے پانچ روپے ترقی مل جائے۔ ہمارا ڈائریکٹر صرف ایک روپیہ دینے پر راضی ہوا۔ اوم پرکاش اس پر بھی خوش تھا۔ ہر روز شام کو آکر پہلے ریہرسل کرتا پھر اپنا پروگرام پیش کرکے ہنستا کھیلتا چلا جاتا۔’

کرتار سنگھ دگل نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ وہ پنچولی فلم اسٹوڈیو سے جلدی جلدی میک اپ اتارے بغیر ریڈیو پہنچے تو ڈراما شروع ہو چکا تھا، اوم پرکاش نے ڈیوٹی آفیسر کی کافی منت سماجت کی لیکن انہیں لال بتی والے اسٹوڈیو میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ ڈراما کرتار سنگھ دگل نے لکھا تھا اور وہی اسے پروڈیوس کر رہے تھے سو مجبوراً اوم پرکاش کا پارٹ انہی کو کرنا پڑا۔

معروف لکھاری اور صحافی عبدالسلام خورشید کا بھی دیہاتی پروگرام سے تعلق تھا۔ وہ اس کے آخری حصے کے لیے جنگی خبروں کو پنجابی میں منتقل کرتے تھے۔ انہوں نے ‘وے صورتیں الٰہی’ میں اوم پرکاش کے بارے میں خوب لکھا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کام کے معاملے میں لکیر کے فقیر نہیں تھے۔

عبدالسلام خورشید لکھتے ہیں: ‘مکالمے میں دو کردار تھے۔ ایک فتح دین، دوسرا رام داس۔ فتح دین کا کردار اوم پرکاش ادا کرتے تھے اور رام داس کا طفیل فاروقی۔ یہ دونوں بہت شوخ و شنگ جوان تھے اور مکالمے میں بڑھا بھی دیتے تھے کچھ زیبِ داستاں کے لیے۔ اس پر افسروں کو اعتراض ہوا اور مجھے حکم دیا گیا کہ اپنی نگرانی میں ریہرسل کرایا کروں۔ میں عجیب مصیبت میں پڑ گیا کہ دونوں عمر میں مجھ سے کچھ بڑے تھے، چلتا پرزہ تھے۔ مجھے خاطر میں نہیں لاتے تھے اور اول تو ریہرسل ہی میں تنگ کرتے تھے ورنہ براڈ کاسٹنگ کے وقت ڈنڈی مار جاتے تھے۔ میں نے ایک آدھ بار رپورٹ کردی تو اوم پرکاش نے منہ بنا لیا لیکن اپنی عادت نہ چھوڑی۔’

ریڈیو کے پروڈیوسر اور پنجابی کے معروف لکھاری سجاد حیدر نے مقصود ثاقب کو انٹرویو میں طفیل فاروقی اور اوم پرکاش دونوں کی اداکاری کو سراہا تھا: ‘ایہہ دویں بڑے اچھے کمپیئر سن۔ بہت اچھے۔’

تقسیم سے پہلے لاہور ریڈیو پر رفیع پیر کا پنجابی ڈراما ‘اکھیاں’ بہت مقبول ہوا تھا۔ اس میں اندھی لڑکی کا کردار ریڈیو کی لیجنڈری آرٹسٹ موہنی حمید اور بہادر کا پارٹ اوم پرکاش نے کیا تھا۔

اوم پرکاش کی بھائی لال سے محبت کی جھلک آپ نے دیکھ لی، امتیاز علی تاج کی موت پر ان کا درد بھرا پیغام پڑھ لیا۔ لاہور کی ایک اور ہر دلعزیز شخصیت جسے اوم پرکاش نے کبھی دل سے نہیں بھلایا وہ استاد دامن تھے جو انہی کی طرح اندرون لاہور سے تھے۔ انہیں ایک دفعہ انڈیا سے واپسی پر احمد سلیم نے بتایا تھا کہ ‘اوم پرکاش آپ کو یاد کرتے تھے۔’

استاد دامن سے ان کی محبت اور بے تکلفی ان تصاویر سے بھی عیاں ہوتی ہے جو تنویر ظہور کی مرتب کردہ کتاب ‘استاد دامن حیاتی، شاعری تے وچار’ میں شامل ہیں۔

صاحبو! اوم پرکاش ایک نام ہیں، آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن سے ادب، موسیقی اور اداکاری کے میدان میں ایسے ایسے لوگ وابستہ رہے جنہیں انڈیا میں اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز حیثیت حاصل ہوئی اور تقسیم کے بعد وہ کسی بھی مقام پر پہنچے ہوں، وہ لاہور ریڈیو اسٹیشن کو نہیں بھولے۔ مثال کے طور پر ادب میں امرتا پریتم ہوں، موسیقی میں سریندر کور یا اداکاری میں کامنی کوشل اور اوم پرکاش، سب کے لیے لاہور میں ریڈیو اسٹیشن پر گزرا وقت یادگار رہا اور وہ اسے کبھی دل سے بھلا نہ سکے اور اس سے وابستہ شخصیات کا ان کے دل میں بڑا مقام رہا کیوں کہ وہ سب اپنے اپنے شعبے میں نابغۂ روزگار تھیں جن سے انہیں کسبِ فیض کا موقع ملا، اس کی بنیاد پر وہ آگے چل کر نامور ہوئے۔

اس زمانے کے ریڈیو کی جھلک نان فکشن کے ساتھ ساتھ فکشن میں بھی نظر آتی ہے جس کی ایک مثال پنجابی کے معروف ادیب نین سکھ کا ناول ‘مادھو لال حسین، لہور دی ویل’ ہے جس کی ایک لائن ہے: ‘کتھے ٹُر گئے اوہ سارے لوک، اوہ لہور ریڈیو ٹیشن کتھوں لبھے۔۔۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp