بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

ہفتہ 4 جولائی 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بریسٹ کینسر کا پھیلاؤ پوری دنیا میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، مگر پاکستان میں اس کی صورتِ حال زیادہ تشویش ناک نظر آتی ہے۔ یہاں ہر سال تقریباً 40 ہزار خواتین بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو کر انتقال کر جاتی ہیں۔

اس خطرناک بیماری کے سب سے زیادہ کیس کراچی میں سامنے آتے ہیں، کیونکہ یہاں ہر صوبے سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ بلکہ کراچی میں تو بیرونِ ملک، خصوصاً افغانستان سے بھی خواتین علاج کی غرض سے لائی جاتی ہیں۔

پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ چھاتی کا سرطان بھی کینسر کی دیگر اقسام کی طرح ’امیروں کی بیماری‘ ہے، کیونکہ اس کے زیادہ تر مریض مغربی ممالک میں ہوتے تھے، لیکن اب امیر اور غریب کا فرق باقی نہیں رہا۔ اگر عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹس میں اموات کی بڑی وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں بریسٹ کینسر بھی نمایاں وجوہات میں شامل ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مریض زیادہ تر بہت تاخیر سے ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہیں۔ دیہی علاقوں کی خواتین تو فطری حیا کی وجہ سے گھر میں بھی کسی کو اپنی بیماری کے بارے میں نہیں بتاتیں، اور جب بیماری بہت بڑھ جاتی ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرتی ہیں۔

نتیجتاً ان کا مکمل علاج ممکن نہیں رہتا، حالانکہ بریسٹ کینسر بروقت تشخیص کی صورت میں قابلِ علاج بیماری ہے۔ اس لیے ابتدائی مرحلے میں تشخیص اور علاج کے لیے قومی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

اگر کوئی خاتون اپنی چھاتی میں کوئی تبدیلی محسوس بھی کرے تو چونکہ ابتدا میں زیادہ تکلیف نہیں ہوتی، اس لیے وہ اکثر گھر والوں کو نہیں بتاتی۔ وہ اپنی صحت کے بجائے گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں کو ترجیح دیتی رہتی ہے، جس کے باعث بیماری بڑھتی جاتی ہے اور کینسر جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتا ہے۔

بعض نوعمر لڑکیوں کو بھی اگر اس حوالے سے کوئی مسئلہ محسوس ہو تو وہ شرم کی وجہ سے کسی کو نہیں بتاتیں۔ اگر وہ بتا بھی دیں تو بعض گھرانوں میں مرد سرپرست انہیں مرد ڈاکٹر کے پاس لے جانے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں مریض آخری مرحلے میں بڑے شہروں کے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔

اس حوالے سے بریسٹ کینسر کی معروف ماہر ڈاکٹر روفینہ سومرو کہتی ہیں:

“اس مرض کے 4 مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں بیماری محدود ہوتی ہے، جبکہ چوتھے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے کینسر جسم میں پھیل چکا ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تقریباً 50 سے 60 فیصد مریضوں کی تشخیص پہلے مرحلے میں ہو جاتی ہے، کیونکہ وہاں اسکریننگ کا مؤثر نظام موجود ہے۔ پاکستان میں بھی دیہی اور مضافاتی علاقوں تک ایسی سہولتیں پہنچنی چاہییں تاکہ لوگوں کو علاج کے لیے کراچی، لاہور یا اسلام آباد نہ آنا پڑے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ میں اس وقت میموگرام مشینیں حیدرآباد، نواب شاہ اور لاڑکانہ میں موجود ہیں۔ اٹامک انرجی کے مراکز میں بھی یہ سہولت موجود ہو سکتی ہے، تاہم وہ اس ضمن میں کسی اعداد و شمار سے واقف نہیں تھیں۔

“ایک مرتبہ میں سکھر کے ایک میڈیکل کالج میں لیکچر دینے گئی تو وہاں مجھ سے پوچھا گیا کہ میموگرام مشین کی قیمت کتنی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سکھر جیسے بڑے شہر میں بھی یہ سہولت عام نہیں۔ اگر بنیادی معلومات اور ضروری سہولتیں ہی دستیاب نہ ہوں تو ہم اس بیماری سے مؤثر انداز میں کیسے لڑ سکتے ہیں؟”

بریسٹ کینسر کی اہم علامات میں چھاتی کے سائز یا شکل میں تبدیلی، نپل کا اندر دھنس جانا، خون آلود رطوبت کا اخراج، جلد کا سکڑ جانا یا اندر کی طرف کھنچ جانا، یا بغل میں گلٹی یا غدود کا محسوس ہونا شامل ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

خواتین گھر پر بھی خود معائنہ کر سکتی ہیں۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھیں کہ چھاتی کی شکل، سائز یا نپل میں کوئی تبدیلی تو نہیں آئی۔ اسی طرح دائیں ہاتھ سے بائیں چھاتی اور بائیں ہاتھ سے دائیں چھاتی کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل صرف پندرہ منٹ لیتا ہے اور بروقت تشخیص میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں اس مرض کے علاج کی سہولتیں ابھی بھی ناکافی ہیں۔ کراچی میں میموگرام، کیموتھراپی، سرجری، ہارمونل ادویات اور مہنگی ادویات دستیاب ہیں، لیکن تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی ہے۔ کئی اسپتالوں میں نہ مناسب مشینیں موجود ہیں اور نہ ہی انہیں چلانے والے ماہر ریڈیوگرافر۔

اسی طرح تربیت یافتہ بریسٹ سرجن، ریڈیولوجسٹ اور اونکولوجسٹ بھی ضرورت سے کم ہیں۔ انفرا اسٹرکچر کی کمزوری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریڈیوتھراپی کے لیے عام مریض کو کئی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جب کراچی جیسے بڑے شہر میں یہ صورتِ حال ہے تو دیگر شہروں میں علاج کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

میموگرافی کے بارے میں عام تاثر ہے کہ اس سے نقصان ہوتا ہے، لیکن یہ درست نہیں۔ میموگرافی چھاتی کا ایک خصوصی ایکسرے ہے، جس کے ذریعے بیماری کی تشخیص علامات ظاہر ہونے سے تقریباً 2 سال پہلے بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ ایکسرے صرف بریسٹ ٹشوز کے لیے مخصوص ہوتا ہے اور اس کے کوئی نمایاں مضر اثرات ثابت نہیں ہوئے۔

سرکاری مراکز میں میموگرافی کی فیس تقریباً 500 روپے ہے، جبکہ نجی مراکز میں اس کے لیے 4 سے 5 ہزار روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔

ہر خاتون کو خود معائنہ کرنے کے طریقے ضرور آنے چاہییں، جبکہ 40 سال کی عمر کے بعد باقاعدگی سے بریسٹ کا طبی معائنہ کرانا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ معائنہ صرف بریسٹ سرجن ہی کرے؛ جنرل فزیشن، گائناکولوجسٹ، جنرل سرجن یا تربیت یافتہ ہیلتھ وزیٹر بھی ابتدائی معائنہ کر سکتے ہیں۔

بریسٹ کینسر کسی ایک طبقے کی بیماری نہیں۔ یہ غریب، متوسط یا امیر، ہر طبقے کی خواتین کو لاحق ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 40 ہزار خواتین اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتِ حال ہے۔

اس لیے ناگزیر ہے کہ ملک بھر میں، خصوصاً دیہی علاقوں میں، بریسٹ کینسر سے متعلق مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری سطح پر تربیت یافتہ لیڈی ہیلتھ وزیٹرز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کا براہِ راست رابطہ گھروں اور خواتین سے ہوتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp