یہ کہانی ایک نیلگوں ذرے کی ہے۔ ایک ایسا ذرہ جس پر سمندر ہیں، میدان ہیں، جزیرے ہیں، پہاڑ ہیں، وادیاں ہیں، دریا ہیں، ندیاں ہیں، چشمے ہیں، جھیلیں ہیں اور صحرا ہیں۔ اسی ذرے پر چرند ہیں، پرند ہیں، حشرات ہیں، حیوانات ہیں اور انسان ہیں۔
اسی نقطہ نما ذرے پر ان انسانوں کی تاریخ ہے، تہذیب ہے، تمدن ہے، ثقافت ہے، تعلقات ہیں، احساسات ہیں، دوستی ہے، دشمنی ہے، امن ہے، جنگیں ہیں، محبت ہے، نفرت ہے اور فطرت ہے۔
اس کائنات کا مشاہدہ ہمارے سامنے ایک ایسے خوبصورت جال کی منظر کشی کرتا ہے جس میں بے شمار کہکشائیں ہیں۔ ان کہکشاؤں میں ہماری کہکشاں مِلکی وے ہے۔ اس کہکشاں میں ان گنت ستارے ہیں، ان ستاروں میں ایک ستارہ سورج ہے اور اس سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں میں ایک نیلا سیارہ زمین ہے، جس کی حیثیت اس منظر نامے میں ایک چھوٹے سے ذرے کی سی ہے۔
کہتے ہیں کہ یہ سیارہ کبھی رہنے کے لیے موزوں ترین اور معتدل تھا۔ اس کا درجہ حرارت زیادہ نہ تھا۔ سمندروں میں سکون تھا، دریاؤں میں روانی تھی، جنگلات میں ہریالی تھی، ہواؤں میں ٹھنڈک تھی، دھوپ میں صحت تھی اور رشتوں میں محبت تھی۔
یہ تو برا ہو، زمین کے گرد بنی گیسوں کی ہلکی سی چادر کا، جو وقت کے کروٹ لینے پر اور صنعتی انقلاب کے وجود میں آنے پر موٹی ہوتی رہی اور یوں زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھتا رہا۔
دنیا میں مختلف ممالک کے درمیان ترقی کی دوڑ نے ایک ایسے ماحول کی بنیاد رکھی جس میں جنگلات کاٹے گئے، کنکریٹ کی عمارتیں بنائی گئیں، ٹرانسپورٹ سسٹم میں لاکھوں گاڑیاں متعارف کرائی گئیں اور پھر رہتی کسر کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے پوری کر دی۔
اس نیلے سیارے کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے ترقی یافتہ ممالک کو کم اور پاکستان جیسے ترقی پذیر یا تیسری دنیا کے ملکوں کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ پاکستان اس سیارے کے کل کاربن فٹ پرنٹ کے ایک فیصد سے بھی کم کا ذمہ دار ہے لیکن اس کے پہلے پانچ متاثرین میں شامل ہے۔
یہی وہ تکنیکی نکتہ ہے جسے ہم ماحولیاتی انصاف کہتے ہیں، یعنی کرے کوئی اور بھرے کوئی اور۔ پاکستان عالمی فورمز پر کئی مرتبہ یہ مسئلہ اٹھا چکا ہے، مگر اس کے حل یا تلافی کے لیے تاحال کوئی موزوں ترین پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
عالمی موسمیاتی ادارے کی ہوش ربا تحقیق کے مطابق ایشیا دوسرے خطوں کی نسبت زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ اگرچہ یورپ اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے لیکن ایشیا میں 1991 سے 2025 تک ریکارڈ کی گئی گرمی کی اوسط شرح 1961 سے 1990 تک ریکارڈ کی گئی شرح سے دو گنی رہی۔ اسی طرح ایشیا کے ایک ہزار گلیشیئرز کے جمع کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان میں نمایاں کمی ہو رہی ہے، لیکن پاکستان میں آئندہ پچاس برسوں میں اوسط درجہ حرارت کے تین سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں درجہ حرارت کے بڑھنے سے گلیشیئرز پگھلنے لگے، جھیلیں بننے اور ٹوٹنے لگیں، سیلاب آنے لگے، سطح سمندر بلند ہونے لگی، ساحلی علاقے زیرِ آب آنے لگے، زمینیں بنجر ہونے لگیں، فصلیں تباہ ہونے لگیں اور کسان شہروں کو ہجرت کرنے لگے۔
2015 کی ہیٹ ویو اور 2022 کے سیلاب نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سیلاب نے تو پاکستان کی ایک تہائی آبادی کو ڈبو دیا، ہزاروں جانوں کو نگل لیا، مالی نقصان الگ سے ہوا اور ہیٹ ویو نے پندرہ سو لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا ۔ اب ہم مون سون 2026 کی دہلیز پر ہیں۔
ہمارے پاس بارشوں اور سیلاب کے اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیمز ناکافی ہیں۔ ہم نے فلڈ زونز یا سپونج زونز سرے سے بنائے ہی نہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں آبی و موسمیاتی ماہرین کی ٹیمیں تشکیل دیں کہ وہ عملی اقدامات کے لیے تجاویز پیش کر سکیں، بلکہ اس کے برعکس دریاؤں کے کنارے پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کا جال بچھا دیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی جو ہر سال ایک نئی مشکل سے دوچار کرتی ہے، اس کے لیے ہم مختص کیے گئے ہر دس روپے میں سے فقط ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں اور اس کے سالانہ بجٹ میں 70 فیصد تک کمی کر دی ہے۔ موسمیاتی بحرانوں کی صورت میں ہم واویلا تو کرتے ہیں مگر اس کے خطرات کو بھانپتے ہوئے، اس سے قبل از وقت نمٹنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہیں۔
ایک دس بلین ٹری سونامی منصوبہ تھا، وہ بھی ہوا ہو گیا۔ کتنے ہی ایسے پودے ہوں گے جو گرین واشنگ کا رزق ہو چکے۔ آپ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سڑکوں کے ساتھ درختوں کی لمبی قطاروں کو دیکھیں گے۔ وہاں انفراسٹرکچر اور درخت لازم و ملزوم ہیں، لیکن ہم پہلے درختوں کو ٹھکانے لگاتے ہیں، پھر اسی جگہ انفراسٹرکچر کھڑا کرتے ہیں۔ پاکستان کی تمام بڑی شاہراہیں درختوں سے خالی اور دھوپ سے گرم ترین ملیں گی۔ شمالی علاقہ جات اور اسلام آباد میں درختوں پر چلنے والے کلہاڑے دراصل ہماری اجتماعی بصیرت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔
ہم روزانہ کی بنیاد پر اتنا پانی استعمال نہیں کرتے جس قدر ضائع کرتے ہیں۔ ہم ایک آدھ کلومیٹر کی مسافت کے لیے بھی بائیک یا گاڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ ہیٹ ویو کے بنیادی تصور سے بھی نابلد ہیں اور کثیر سرمایہ ہونے کے باوجود دریاؤں کے نواحی علاقوں سے ہجرت نہیں کرتے، لیکن بعد میں سیلاب آنے کی صورت میں وہی سرمایہ دریا برد ہوتا دیکھ کر بے بسی کی تصویر بنے ہوتے ہیں۔
اس نیلے ذرے کی یہ کہانی اسی ذرے پر بسنے والوں کے ذریعے لکھی جا رہی ہے۔ معلوم نہیں کہ اس کا اختتام کہاں پر ہوتا ہے، یعنی ایک قیامت تو وہ ہے جو طے ہے، دوسری قیامت کی کہانی ہم خود اپنے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پہلے کون سی قیامت وقوع پذیر ہوتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













