چین کا جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز تک غیر ملکی رسائی محدود کرنے پر غور

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

چینی حکومت اپنی جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کو اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیتے ہوئے غیر ملکی صارفین کی رسائی محدود کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے گزشتہ ایک ماہ کے دوران حکام نے ملک کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے متعدد اجلاس کیے ہیں، جبکہ امریکا بھی قومی سلامتی کے خدشات کے باعث اپنی جدید اے آئی ٹیکنالوجی پر برآمدی پابندیاں سخت کر چکا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے حالیہ ہفتوں میں ملک کی نمایاں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مشاورت شروع کی ہے تاکہ چین کے جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈلز تک بیرونِ ملک رسائی محدود کرنے کے لیے ممکنہ پالیسی تیار کی جا سکے۔ یہ اقدام اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت چین حساس اے آئی ٹیکنالوجی کو ملک کے اندر محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ڈیپ سیک کے آر-1 ماڈل کی کامیابی کے بعد کم لاگت اور بہتر کارکردگی کے باعث چینی اے آئی ماڈلز دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ تاہم اگر چین ان ماڈلز تک غیر ملکی رسائی محدود کرتا ہے تو عالمی اے آئی مارکیٹ پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور متعدد کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا غیر مناسب استعمال قومی سلامتی کے قوانین کی خلاف ورزی بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت اس امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ ملکی اے آئی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ قواعد کا دائرہ کار ابھی زیر غور ہے اور امکان ہے کہ ان کا اطلاق صرف آئندہ آنے والے جدید اے آئی ماڈلز پر ہو۔

دوسری جانب امریکا بھی مصنوعی ذہانت کو قومی سلامتی سے جوڑ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ امریکی اے آئی ماڈلز کو چین، روس اور دیگر ممالک عسکری یا انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جس کے باعث جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمد اور رسائی پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

اسی سلسلے میں امریکی کمپنی اینتھروپک نے حال ہی میں اپنے نئے اے آئی ماڈلز Fable 5 اور Mythos 5 تک رسائی محدود کرنے کا اعلان کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکی برآمدی ضوابط کی پابندی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بعض غیر ملکی صارفین کے لیے ان ماڈلز کی دستیابی محدود کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی اے آئی ایپ سیڈانس نے ہالی ووڈ میں ہلچل مچا دی

ادھر چینی حکام نے مقامی اے آئی کمپنیوں، جن میں Manus بھی شامل ہے، کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انہوں نے برآمدی کنٹرول کے قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ اس کے علاوہ جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجیز کو سکیورٹی جائزے سے گزارنے اور بعض انتہائی جدید ماڈلز کی عوامی سطح پر دستیابی محدود کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی بہن نورین نیازی کو متنازع بیان پر این سی سی آئی اے نے طلب کرلیا

افواجِ پاکستان قوم کا سرمایہ اور فخر، وقار مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملک احمد خان

کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی وی اسپورٹس ٹیم کو خراج تحسین، فیفا ورلڈ کپ کی خصوصی کوریج پر فخر کا اظہار

آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم

ویڈیو

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، نصرت جاوید نے ایرانی پراکسی کا کچا چٹھا کھول دیا

کالم / تجزیہ

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟