امریکی وفاقی استغاثہ نے کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے مقدمے میں بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی اور ستندرجیت سنگھ عرف گولڈی برار پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ یہ مقدمہ امریکا، کینیڈا اور یورپی ممالک کی مشترکہ قانون نافذ کرنے والی کارروائی ’آپریشن ہارڈ بال‘ کے تحت سامنے آیا ہے، جسے بھارت سے منسلک بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:کینیڈین وزیراعظم بتائیں، مودی سے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر بات ہوئی؟ سکھ فار جسٹس
عدالتی دستاویزات کے مطابق لارنس بشنوئی نے، جو اس وقت بھارت میں قید ہے، جیل سے اسمگل کیے گئے موبائل فونز کے ذریعے اس کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔ فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ نجر کی تصاویر، رہائش کے پتے اور دیگر معلومات قتل کی منصوبہ بندی میں استعمال کی گئیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ مقدمہ ’آپریشن ہارڈ بال‘ کا حصہ ہے، جس کے دوران امریکا، کینیڈا اور یورپی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 37 افراد پر فردِ جرم عائد کی، جبکہ 24 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر منظم جرائم، بھتہ خوری، اسلحے کی غیرقانونی تجارت، منشیات کی اسمگلنگ اور قتل جیسے سنگین الزامات ہیں۔
کینیڈا 29 ستمبر 2025 کو بشنوئی گینگ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ کینیڈا میں تشدد، دھمکیوں اور مختلف برادریوں کو خوفزدہ کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔
BREAKING: US charges Lawrence Bishnoi & Goldy Brar in Hardeep Singh Nijjar assassination case.
New evidence revealed.#Nijjar #Bishnoi pic.twitter.com/RtZc40RK0V— Socrates (@NewsSportzz) July 8, 2026
پس منظر
سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون 2023 کو کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک گردوارے کے باہر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کینیڈا کے اس وقت کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ کینیڈین سیکیورٹی ادارے بھارتی ایجنٹوں کے ممکنہ کردار سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات پر کام کر رہے ہیں۔ جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں:کینیڈا: سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے الزام میں 3 بھارتی شہری گرفتار
بین الاقوامی اثرات
امریکی فردِ جرم کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس پیشرفت سے بھارت سے منسلک جرائم پیشہ نیٹ ورکس، سرحد پار جرائم، بیرون ملک مقیم افراد کو دھمکانے اور منظم جرائم کے حوالے سے مغربی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کی آئندہ سماعتوں، شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ان الزامات کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین ہوگا، تاہم اس پیشرفت نے کینیڈا میں نجر قتل کیس اور بھارت سے منسلک بین الاقوامی جرائم کے مبینہ نیٹ ورکس پر ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ مرکوز کر دی ہے۔














