بدخشان میں طالبان کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، باغی کمانڈر کے گڑھ پر ہیلی کاپٹروں کی نگرانی

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان کی قیادت اور منحرف کمانڈر جمعہ خان فتح کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کے فوجی ہیلی کاپٹر باغی کمانڈر کے مضبوط گڑھ ضلع نُسے (Nusay) میں فضائی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ علاقے میں اضافی فورسز بھی تعینات کر دی گئی ہیں۔

افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بدخشان کے مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان کے کم از کم 2 فوجی ہیلی کاپٹر اتوار سے ضلع نُسے میں جمعہ خان فتح کے اڈوں اور ان کے وفادار جنگجوؤں کی فضائی نگرانی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر بھاری فوجی سازوسامان سے لیس ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیر کی دوپہر ایک ہیلی کاپٹر مختصر وقت کے لیے ضلع نُسے کے مرکز میں بھی اترا، جہاں سے طالبان کے تین اہلکار نیچے اترے، تاہم ان کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ افغانستان انٹرنیشنل کو موصول ہونے والی تصاویر میں بھی طالبان کے فوجی ہیلی کاپٹروں کو ضلع نُسے کے اوپر پرواز کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملا معتصم کی گرفتاری اور رہائی، افغان طالبان کی صفوں میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

ذرائع کے مطابق اتوار کو طالبان کی تازہ دم نفری بھی ضلع نُسے کے مرکز میں تعینات کی گئی، جس کا مقصد جمعہ خان فتح کے وفادار جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر بدخشان پہنچے، جہاں مقامی جنگجوؤں سے اسلحہ جمع کرنے کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جمعہ خان فتح اس وقت اپنے حامی جنگجوؤں کے ساتھ ضلع نُسے میں موجود ہیں۔ ان کا طالبان کی مرکزی قیادت کے ساتھ تنازع کان کنی کے معاملات، جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے اور سرکاری تقرریوں پر اختلافات کے باعث پیدا ہوا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی کوششیں ناکام رہیں، جس کے بعد طالبان نے علاقے میں فوجی موجودگی بڑھا دی اور جمعہ خان فتح سے وابستہ اہلکاروں اور جنگجوؤں کو عہدوں سے ہٹانے اور غیر مسلح کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:اندرونی اختلافات طالبان حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں، ملا ہیبت اللہ متفکر

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے غلام اللہ احمدی کو، جو جمعہ خان فتح کے مقامی حریف سمجھے جاتے ہیں، بدخشان ڈویژن کا ڈپٹی کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ضلع شکی کے انٹیلی جنس سربراہ اور شغنان بٹالین کے کمانڈر گلبدین الماس کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان وفد نے درواز کے پانچ اضلاع کے ضلعی حکام، انٹیلی جنس سربراہان اور طالبان کمانڈروں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے سرکاری ڈھانچے سے باہر مسلح افراد کی نقل و حرکت نہ روکی تو انہیں بھی عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔

مقامی ذرائع کے مطابق جمعہ خان فتح نے اپنے حامیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، تاہم انہیں پہل کرکے فائرنگ نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زابل سے بدخشان واپسی اور ضلع نُسے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے بعد ان کے اور طالبان کی مرکزی قیادت کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہری شہریت کے حامل مسافروں کے لیے پی آئی اے کی اہم ایڈوائزری جاری

امریکا نے طلبا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین سخت کردیے

مذہبی ہم آہنگی اور اتحادِ امت کی شاندار مثال، تمام مکاتب فکر کی ایک امام کے پیچھے نماز کی ادائیگی

کیا ٹرمپ کا نیا سکہ واقعی سونے کا بنا ہے؟

طالبان رجیم کس طرح بھارت سے پیسے لے کر دہشتگرد گروہوں سے پاکستان میں حملے کرواتی ہے؟ سابق افغان جنرل نے بتادیا

ویڈیو

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے فیلڈ مارشل سے متعلق پروپیگنڈا، کشمیر پیپلز پارٹی کا، کیا ایسا ممکن ہوگا؟ پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

ماضی میں عدالتی احکامات پر مسمار ہونے والی عمارتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے نئے فیصلے سے متاثرین کو کیا ریلیف ملے گا؟

نوکری اور پیسے تو سب لیتے ہیں، لیکن جہاں موت کا خطرہ ہو وہاں ہر کوئی نہیں جاتا، عامر نواز وڑائچ

کالم / تجزیہ

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک