اسرائیل مخالف پوسٹ پر مقدمہ، ریما حسن نے کارروائی کو فلسطین حامی آوازیں دبانے کی کوشش قرار دے دیا

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی رکن ریما حسن نے اسرائیل مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر اپنے خلاف قائم دہشتگردی کے مقدمے کو فلسطین کے حامیوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں شرح پیدائش میں 67 فیصد کمی، اسقاط حمل عالمی اوسط سے 3 گنا زیادہ

پیرس کی عدالت پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریما حسن نے کہا کہ اگر سیاسی مخالفین کو سنسر کرنے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواہ کوئی فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہو یا نہیں، سب کو فرانس کی بنیادی اقدار، یعنی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

ریما حسن کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران ان کے خلاف 16 قانونی کارروائیاں شروع کی گئیں، جن میں سے 13 مقدمات مزید کارروائی کے بغیر ختم کر دیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ان کی پارلیمانی استثنا، نقل و حرکت اور ذاتی معلومات سے متعلق غیر معمولی اقدامات کیے گئے، جبکہ حراست کے دوران ان کے بارے میں گمراہ کن معلومات بھی میڈیا میں پھیلائی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے مزید 8 فلسطینی شہید، مجموعی شہادتیں 73 ہزار سے متجاوز

انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں حراست کے دوران ان کی شناخت، مذہبی پس منظر اور فلسطینی نژاد ہونے سے متعلق ایسے سوالات کیے گئے جن کا مقدمے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے بقول یہ طرزِ عمل فلسطینیوں اور ان کے حامیوں کو مشتبہ بنا کر پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔

ریما حسن نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات اور دیگر اقدامات کا مقصد فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو خوفزدہ کرنا اور عوامی مباحثے کو محدود کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت میں ان کا مؤقف سنا جائے گا اور اس معاملے سے اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی توجہ دی جائے گی۔

دوسری جانب فرانسیسی حکام کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ :اسکول پر اسرائیلی حملہ، 100 سے زائد فلسطینی شہید

واضح رہے کہ ریما حسن کو رواں سال اپریل میں اسرائیل مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر مبینہ طور پر دہشتگردی کی حمایت کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں سات سال قید اور ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا یو این سیکریٹری جنرل کی امیدوار سے رابطہ، یواین قراردادوں پر دیانتدارانہ عملدرآمد پر زور

اٹلی کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد لڑکی کے قتل کیس میں 5 رشتہ داروں کی سزائیں برقرار رکھ دیں

’صرف ڈگری نہیں، بچوں کی کردار سازی پر بھی توجہ دیں‘، عدنان صدیقی کا والدین کو نصیحت بھرا پیغام

2027 میں 9 نئے ایموجیز متعارف کرائے جائیں گے، اچار اور شہابِ ثاقب بھی شامل

حکومت نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نئے سفری قوانین نافذ کر دیے

ویڈیو

عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی لیاری آمد، فٹبال اور باکسنگ کے فروغ کے لیے اکیڈمی بنانے کا عندیہ

گورنر ہاؤس میں ’ارفع کریم اے آئی سمر کیمپ‘، جہاں بچے مستقبل کی ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہیں

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

کالم / تجزیہ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری