فلسطین: 2 دہائیوں بعد قانون ساز ادارے کے انتخابات 28 نومبر کو کرانے کا اعلان

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعرات کو ایک صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے 28 نومبر کو فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہ انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہو گئے تو یہ گزشتہ تقریباً 20 برسوں میں فلسطینی علاقوں میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے ’وفا‘ کے مطابق صدارتی فرمان میں مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آزادانہ اور براہِ راست انتخابات میں حصہ لے کر فلسطینی قانون ساز کونسل کے ارکان کا انتخاب کریں۔

فلسطینی علاقوں میں آخری قانون ساز انتخابات 2006 میں ہوئے تھے، جن میں حماس نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے صدر محمود عباس کی جماعت فتح کو شکست دی تھی۔ اس کے بعد 2007 سے فلسطینی قانون ساز کونسل کا اجلاس نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیے محمود عباس کا فلسطینی نیشنل کونسل کے ارکان کا پہلی بار براہِ راست انتخاب کا فیصلہ

انتخابات کا انعقاد عالمی برادری، خصوصاً یورپی یونین، کے ان اصلاحاتی مطالبات کا حصہ بھی ہے جو رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کو مالی اور سفارتی تعاون فراہم کرتی ہے۔

90 سالہ محمود عباس 2005 میں 4 سالہ مدت کے لیے فلسطینی صدر منتخب ہوئے تھے، جس کے مطابق ان کی آئینی مدت 2009 میں ختم ہو گئی تھی، تاہم اس کے بعد صدارتی انتخابات نہیں ہوئے اور وہ صدارتی احکامات کے ذریعے حکومت چلاتے رہے، جس پر انہیں اندرون اور بیرون ملک تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔

بیرزیت یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر غسان خطیب کا کہنا ہے کہ محمود عباس اس بار اندرونی اور بین الاقوامی دونوں وجوہات کی بنا پر انتخابات کرانے میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔

ان کے مطابق طویل عرصے سے انتخابات نہ ہونے کے باعث فلسطینی قیادت کی عوامی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور عوام اور قیادت کے درمیان فاصلے میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام میں نئی قیادت اور نئی سوچ لانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

غسان خطیب نے کہا کہ تقریباً 2 دہائیوں سے قانون ساز کونسل کی عدم موجودگی نے فلسطینی سیاسی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کو بدعنوانی، جمود اور عوامی حمایت میں کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی امداد دینے والے ممالک بھی اب اپنی مالی اور سفارتی حمایت کو اصلاحات، خصوصاً مقامی طرزِ حکمرانی میں بہتری، سے مشروط کر رہے ہیں۔

انتخابات کو درپیش چیلنجز

یاد رہے کہ 2021 میں بھی محمود عباس نے مئی میں قانون ساز اور جولائی میں صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا، تاہم اسرائیل کے زیرِ قبضہ مشرقی یروشلم میں ووٹنگ کی اجازت نہ ملنے کے باعث یہ انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے تھے۔

رواں سال اپریل میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے، جن میں مقامی کونسلوں کے سربراہوں کا انتخاب کیا گیا۔

غسان خطیب کے مطابق اس بار بھی سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیلی اقدامات ہوں گے، خصوصاً غزہ، مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں ووٹنگ کے انتظامات کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2025 میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت غزہ کے انتظام کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تاہم وہ ابھی تک غزہ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال نہیں سکی۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے یا کم از کم ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو انتخابی عمل میں رکاوٹ بنیں۔

یہ بھی پڑھیے فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں کی کامیابی

غسان خطیب کے مطابق اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو مزید کمزور کرنا چاہتا ہے، جبکہ انتخابات فلسطینی اتھارٹی کو نئی سیاسی طاقت اور عوامی جواز فراہم کر سکتے ہیں، جو اسرائیلی پالیسی کے برعکس ہے۔ ان کے بقول اسرائیل مختلف طریقوں سے انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ محمود عباس جون میں اعلان کر چکے ہیں کہ فلسطینی صدارتی انتخابات 2027 کے اوائل میں کرائے جائیں گے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے یا نہیں۔

غسان خطیب کا کہنا ہے کہ اگرچہ قانون ساز انتخابات کا انعقاد فلسطینی سیاسی نظام کے لیے اہم پیش رفت ہوگا، تاہم اس سے فوری طور پر کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی، جبکہ ان کے نزدیک حماس کے نمایاں انتخابی کامیابی حاصل کرنے کے امکانات بھی محدود دکھائی دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین کا فلپائن سے متنازع سمندری علاقے میں اشتعال انگیزی فوری بند کرنے کا مطالبہ

چیف الیکشن کمشنر کی میرپور ڈویژن کے عوام سے نتخابات میں بھرپور شرکت کی اپیل

تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی

جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، 37 افراد کو بچا لیا گیا، سرچ آپریشن جاری

روشن ساتھی ستاروں کی چمک میں چھپے 4 سفید بونے ستاروں کا انکشاف

ویڈیو

تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی

روشن ساتھی ستاروں کی چمک میں چھپے 4 سفید بونے ستاروں کا انکشاف

بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں