افغانستان میں آزادانہ انتخابات ہوں تو طالبان شکست کھا جائیں گے، احمد مسعود کا دعویٰ

اتوار 12 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے سربراہ احمد مسعود نے طالبان مخالف قوتوں میں اختلافات کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشترکہ اصولوں اور قومی مقاصد پر متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں آزاد اور شفاف انتخابات کرائے جائیں تو طالبان عوامی حمایت رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے رہنما احمد مسعود نے کہا ہے کہ طالبان مخالف قوتوں کو تقسیم شدہ اور کمزور ظاہر کرنے کی کوششیں افغان عوام اور عالمی برادری میں مایوسی پھیلانے کے لیے کی جا رہی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے سابق جہادی کمانڈر سید حسین انوری کی وفات کی دسویں برسی کے موقع پر منعقدہ آن لائن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان مخالف تمام سیاسی جماعتیں اور تحریکیں مشترکہ اصولوں، اقدار اور قومی مفادات پر متحد ہیں۔ انہوں نے ان حلقوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات سے متعلق بیانیے سے ہوشیار رہیں۔

احمد مسعود کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں حقیقی معنوں میں آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات منعقد ہوں اور عوام کو آزادانہ ووٹ ڈالنے کا موقع ملے تو طالبان کو نمایاں عوامی حمایت رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان اب بھی امریکی شہریوں کو یرغمال بنا رہے ہیںِ، امریکی محکمہ خارجہ

انہوں نے سابق افغان نائب صدر عبدالرشید دوستم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ مارشل دوستم انتخابات میں حصہ لیں اور طالبان کا امیدوار ان سے زیادہ ووٹ حاصل کر لے؟ ان کے بقول ایسا ہونا ناممکن ہے۔

طالبان حکومت کا کوئی متبادل موجود نہ ہونے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے احمد مسعود نے کہا کہ متبادل کسی ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک آئینی اور قومی سیاسی عمل ہے۔ ان کے مطابق اس عمل میں عبوری حکومت کا قیام، نئے آئین کی تیاری، لویہ جرگہ کا انعقاد اور آزاد انتخابات کے ذریعے ایسی حکومت کا قیام شامل ہونا چاہیے جسے افغانستان کے تمام شہری قبول کریں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران افغانستان سیاسی، سیکیورٹی اور سماجی بحرانوں سے دوچار رہا ہے۔ اس عرصے میں جلاوطنی اختیار کرنے والے طالبان مخالف رہنماؤں اور سیاسی گروپوں نے مختلف کانفرنسوں اور سیاسی اقدامات کے ذریعے متبادل سیاسی نظام کی تشکیل کی کوششیں کیں، تاہم اب تک وہ کوئی وسیع، متحد اور مؤثر اتحاد یا طالبان کے متبادل قابلِ عمل سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فوجی جوان محض تنخواہ کے لیے جان نہیں دیتے، شہدا کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ ہے، خواجہ آصف

پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی اور سائبر سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم