سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کیوں خاموش ہیں؟

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کا میاب ہوگئی، شہباز شریف وزیراعظم پاکستان اور مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب بن گئیں، تاہم پارٹی قیادت میں متحرک رہنے والے اور ماضی میں نواز شریف کے جانشین سمجھے جانے والے حمزہ شہباز موجودہ صورت حال میں مکمل طور پر خاموش ہیں۔

حمزہ شہباز نے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

مزید پڑھیں: حمزہ شہباز کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صدر بنانے کا معاملہ تاحال التوا کا شکار

ن لیگ کے وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنانے کے کچھ عرصے بعد حمزہ شہباز شریف کو وفاق میں اہم ذمہ داری سونپنے کا نوٹفیکشن جاری کیا گیا مگر حمزہ شہباز شریف نے یہ ذمہ داری نہ سنبھالی۔

ماضی میں حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر بھی رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر بھی ان کی گرفت پنجاب خاص طور پر لاہور کی حد تک بہت مضبوط رہی ہے، تاہم اب ایسی صورت حال آ چکی ہے کہ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ موجودہ صورت حال سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ ان کا دل ٹوٹا ہوا ہے، وہ کوئی بھی حکومتی ذمہ داری لے کر متحرک ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حمزہ شہباز تجربہ کار اور ذہین ہیں مگر وہ اقتدار کی سیاست سے دور ہیں، اس وقت وہ مکمل آؤٹ ہیں، اس لیے خاموش ہوگئے ہیں، وہ کسی سیاسی صورتحال اور نہ ہی پارٹی کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، حمزہ شہبازشریف کو پنجاب میں پارٹی کا صدر بنانے کے حوالے سے بات ہوئی مگر ابھی تک کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔

حمزہ شہباز شریف ماڈل ٹاؤن کے مرکزی سیکریٹریٹ روزانہ کی بنیادوں پر آتے ہیں، پارٹی رہنماؤں، ایم پی ایز، ایم این ایز سے ملاقاتیں کرتے ہیں، پارٹی کارکنوں کے ساتھ بھی ملتے رہتے ہیں لیکن سیاسی طور پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

حمزہ شہباز کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ پارٹی نے انہیں نہ گلگت بلتستان میں الیکشن مہم کے لیے بھیجا اور نہ ہی اب انہیں آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھیجا جارہا ہے، حمزہ شہباز شریف پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں کچھ وقت گزارتے ہیں اور پھر گھر چلے جاتے ہیں، وہ کسی بڑی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے رہے۔

حمزہ شہباز کی خاموشی کبھی چیلنج بھی بن سکتی ہے

ن لیگ کو پچھلے 15 سال سے کور کرنے بیٹ رپورٹر الفت مغل کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف جب اپوزیشن لیڈر تھے اس وقت ان کا زیادہ وقت جیل میں گزرتا تھا پھر صورتحال بدلی اور حمزہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے لیکن ایک ماہ بعد ان سے وزرات اعلیٰ چھین لی گئی۔

مزید پڑھیں: علی ڈار کی حمزہ شہباز سے ملاقات، پنجاب کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہاکہ اس کے بعد سے حمزہ شہباز پارٹی میں زیادہ متحرک نظر نہیں آئے، ان کے ایکٹو نہ ہونے کی وجہ سے مریم نواز نے وہ میدان سنبھالا اور وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئیں۔ اب حمزہ شہباز شریف نے گوشہ نشنی اختیار کرلی ہے، ان سے جب بھی ملاقات ہوئی ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ مریم نواز کی حکومت سے خوش نہیں ہیں، ۔حمزہ شہباز جان بوجھ کر بھی کم پروفائل رہ کر پارٹی کے اندرونی اختلافات سے بچ رہے ہیں اور مستقبل میں کسی مناسب موقع پر دوبارہ فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بنگلہ دیش ہاتھ سے نکلا تو بھارت کو پڑوسی یاد آگئے، طارق رحمان کو دہلی بلانے کے لیے بے تابی

پانچوں آئل ریفائنریاں ریفائنری اپ گریڈ پالیسی کے تحت معاہدوں کے لیے تیار، علی پرویز ملک

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ