خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی اسمبلی کے اراکین کی مراعات سے متعلق متنازع ترامیمی ایکٹ پر بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل اور تنقید کے بعد متنازع شقیں واپس لینے کا اعلان کردیا ہے۔
عوامی ردعمل کے بعد مراعات سے متعلق ترامیم کا جائزہ لینے کے لیے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی سربراہی میں اجلاس ہوا، جس میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہا۔
اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے بتایا کہ اجلاس میں تمام متنازع شقیں واپس لینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور معاملہ مراعات کمیٹی کو ریفر کردیا گیا ہے۔ ’تمام متنازع شقیں ایک ہفتے کے اندر واپس لے لیں گے اور مراعات ایکٹ 1988 کو اس کی اصل حالت میں بحال کریں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ عوام کو جن شقوں پر اعتراض ہے یا جو نکات متنازع ہیں، انہیں واپس لیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متنازع شقوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے، جو ایک ہفتے کے اندر ضروری تبدیلیوں کے بعد ترامیمی ایکٹ کو اصل حالت میں بحال کرے۔
شفیع جان نے کہاکہ بلیو پاسپورٹ، اسلحہ لائسنس، صحافیوں اور اراکین کی بیواؤں سے متعلق مراعات کی شقیں تنازع کا سبب بنی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایک ہفتے کے اندر تمام متنازع شقیں واپس لے لی جائیں گی۔
شفیع جان نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ بلیو پاسپورٹ کے تاحیات اجرا اور شریکِ حیات (اسپاؤز) سے متعلق شقیں کابینہ کی منظوری کے وقت مسودے کا حصہ نہیں تھیں۔ ان کے مطابق مراعات کمیٹی کے اراکین نے مجوزہ ترامیم کی حمایت کی تھی۔
علی امین گنڈاپور کے اس مطالبے کے بارے میں سوال پر کہ مراعات کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین کے نام سامنے لائے جائیں، شفیع جان نے کہاکہ ان شقوں کی حمایت مراعات کمیٹی کے اراکین نے کی تھی اور ان کے نام سب کے سامنے ہیں۔
مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور اپنی حکومت پر برس پڑے، ’بلیو پاسپورٹ اور مراعات مانگنے والے اراکین کے نام سامنے لائے جائیں‘
انہوں نے دعویٰ کیاکہ مراعات سے متعلق تنازع کو غیر ضروری طور پر اچھالا گیا اور بعض حلقوں نے اسے دیگر معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور ہونے والے مراعاتی ترامیمی ایکٹ کی بعض شقوں پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی تھی، جس کے بعد حکومت نے ان شقوں کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔














