اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ

اتوار 12 جولائی 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کرہِ ارض کے گرم ترین خطے میں ایک بڑا سا جانور، اپنی پشت پر منوں بوجھ اٹھائے، بغیر کچھ کھائے پیے، روزانہ ایک سو میل فاصلہ طے کرتا، اس منزل کی جانب رواں دواں ہوتا ہے، جس سے متعلق اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ یہ سب اس کا مالک جانتا ہے۔

اس کا کام فقط سامان اٹھائے، ایک وقار، ایک تال اور لے سے چلتے چلے جانا ہے، بھوک پیاس کا خیال کیے بغیر۔ ہاں، جب کسی نخلستان میں اس کا مالک سستانے کے لیے پڑاؤ ڈالتا ہے تو پھر یہ بے زبان جانور بھی ’رج کے‘ پانی پیتا اور چارہ کھاتا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں اتنا کھا پی لیتا ہے جو اگلے کئی دن کے لیے اسے بھوک پیاس سے بے نیاز کر دیتا ہے۔

یہ کون سا جانور ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اونٹ کے سوا کون ہو سکتا ہے، جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے بدن پر دونوں جانب جو کٹ ورک یا ڈیزائن بڑی محبت اور کاریگری سے بنائے جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے مطابقت بھی رکھتے ہیں اور ان کی ہر ’کل‘ سیدھی بھی ہوتی ہے!

اونٹ کے جسم پر نقش و نگار بنانے کا آرٹ، دنیا کے ان علاقوں میں رائج ہے، جہاں جہاں اونٹ کا وجود ہے۔ چولستان، صحرائے تھر اور سندھ کے شمالی علاقوں میں بھی یہ فن، قدیم زمانے سے نظر آ رہا ہے، جسے ’گل کاری‘ کہتے ہیں۔

یہ کام جو فنکار کرتے ہیں، وہ بنیادی طور پر نائی ہوتے ہیں مگر انہیں مقامی زبانوں میں الگ الگ ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ سندھ کے کوہستانی علاقے میں انہیں ’ڈاس کترو‘ کہتے ہیں۔ ’ڈاس‘ کے معنی اونٹ کے بال ہوتے ہیں۔ پنجاب میں انہیں ’شتر کاترے‘ کہا جاتا ہے۔

بھارت کے راجستھانی علاقوں بیکانیر، جیسلمیر اور باڑمیر میں بھی یہ فن صدیوں سے زندہ ہے۔ بیکانیر کے سالانہ اونٹ میلے اور پشکر مویشی میلے میں ایسے اونٹ لائے جاتے ہیں، جن کے جسموں پر منفرد اور خوبصورت نقش و نگار بنے ہوتے ہیں۔ ان میلوں میں ایسے اونٹوں کا ’مقابلہِ حسن‘ بھی منعقد کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک مقابلہ پنجاب کے چولستان اور سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں بھی ہوتا ہے۔

کراچی میں سہراب گوٹھ سے آگے، سپر ہائی وے پر لگنے والی مویشی منڈی میں بھی ایسے اونٹ اور ڈاچیاں یعنی اونٹنیاں لائی جاتی ہیں، جن کے جسم، مقامی آرٹسٹوں کے لیے ’کینوس‘ ہوتے ہیں، جن پر وہ مختلف گل کاریاں بنا کر دیکھنے والوں سے داد و تحسین سمیٹتے ہیں۔

محبوب علی سیال اس گل کاری کرنے کے فن کے مشہور کاریگر ہیں۔ وہ اپنے کام سے متعلق بتاتے ہیں کہ ’لوگ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم کسی بندے کے بال کاٹ کر سیٹ کرتے ہیں، اسی طرح اونٹ کی ’بج‘ یعنی بالوں کو کاٹ کر ڈیزائن بنانا بھی آدھے پونے گھنٹے کا کام ہو گا۔

مگر سائیں! ایسا نہیں ہے۔ اس کام میں کئی کئی دن اور کسی خاص ڈیزائن کے بنانے میں سال بھی لگ جاتا ہے، کیونکہ ہمیں کسی خاص ڈیزائن کے لیے اونٹ کے بالوں کے بڑھنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بعض شوقین مالک اتنا باریک ڈیزائن بنواتے ہیں کہ کاریگر اگر اونٹ پر روزانہ 3 گھنٹے بھی محنت کرے تو بھی اسے 2 اڑھائی ماہ لگ جاتے ہیں۔‘

’اتنی زیادہ محنت کے کام کے لیے اجرت کیسے طے ہوتی ہے؟

 ’اس میں یوں کرتے ہیں کہ یا تو ڈیزائن دیکھ کر ہم بتا دیتے ہیں کہ اس کام کے اتنے سو یا پھر ہزار لیں گے یا پھر دیہاڑی کے حساب سے بات کرتے ہیں۔ اس طریقے میں پھر مالک کو پہلے بتا دیتے ہیں کہ روز کے 3 یا 4 گھنٹے کام کر سکتے ہیں، اس سے زیادہ ٹائم نہیں دے سکتے۔ اگر وہ بولے ٹھیک ہے تو پھر ہزار یا ڈیڑھ ہزار روپے دیہاڑی لے کر ’بسم اللہ‘ کرتے ہیں۔‘

’اتنا وقت کیوں لگ جاتا ہے؟‘

 بھائی! عام کٹنگ والا ڈیزائن تو ایک یا 2 دن میں ہی مکمل ہو جاتا ہے مگر باریک کام میں ٹائم لگتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اونٹ کی ’ڈاس‘ یا اس کے بال بڑے ہونے میں بہت ٹائم لیتے ہیں۔ ہم انتظار کرتے ہیں کہ بال اتنے بڑھ جائیں کہ قینچی، استرا اور کاٹنے والے دوسرے اوزاروں سے کام کرنے میں آسانی ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ پورے بدن پہ ایک جیسے گل بوٹے نہیں بنتے۔ کہیں پر گہری کٹنگ ہوتی ہے تو کہیں پہ ہلکی ہلکی قینچی چلاتے ہیں۔ یہ ڈیزائن کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔

جب آخرکار ڈیزائن مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد ان ڈیزائن والے گل بوٹوں یا رلّی جیسے ڈیزائنوں پر مہندی سے ہلکے اور گہرے رنگ کیے جاتے ہیں۔ ان رنگوں کو پکا اور پورا کرنے میں بھی وقت تو لگتا ہے نا!‘

’عام طور پر لوگ کس طرح کے ڈیزائن بنوانا چاہتے ہیں؟‘

 یہ تو ہر کسی کی اپنی پسند کی بات ہوتی ہے۔ کوئی بولتا ہے کہ میرے اونٹ کے پورے بدن پر ’چوکڑی‘ والا، یعنی چورس والا ڈیزائن بنا دو. کوئی شوقین مالک اجرک کی طرح پھلی اور تارے کے ڈیزائن بنوا کر خوش ہوتا ہے۔ پر کبھی کوئی گاہک ایسی عجیب فرمائش کرتا ہے کہ ہم ہنس پڑتے ہیں۔‘

’ایسی کون سی فرمائش ہوتی ہے؟‘

’بھائی! ایک گاہک آیا تھا، اپنا بڑا سا اونٹ لے کر، اس نے کہا کہ یہ میرا جو اونٹ ہے نا، وہ شیر جیسا طاقتور ہے، اس لیے اس کے اوپر ببر شیر بناؤ۔

اب تم بتاؤ سائیں! کہ اونٹ پر ببر شیر کیسا لگے گا؟ مگر گاہک تو بادشاہ سلامت ہوتا ہے نا، اس لیے اس کی بات رکھنی پڑتی ہے۔ بس، پھر ہم نے اس کو بولا کہ سائیں! جس ببر شیر کی فوٹو تم کو پسند ہے، وہ لے آ کر ہم کو دے دو، پھر تم ہمارا کام دیکھتے جاؤ۔

پھر اس نے ہم کو اخبار، پتا نہیں رسالے سے ببر شیر کا ایک فوٹو لا کر دے دیا تو ہم نے اپنی قینچی وینچی سے اونٹ کے بالوں کو کاٹ کر ایسا ببر شیر بنا کر دیا جو اپنا بڑا والا منہ کھول کر آواز بھی نکال رہا تھا۔۔۔ ہاہاہا!‘

اونٹ کے بالوں سے آرٹ اور کرافٹ کے نمونے سردیوں کے موسم میں تخلیق کیے جاتے ہیں۔ اس کی ایک ٹھوس وجہ ہے۔ وہ یہ کہ گرمیوں میں قدرتی طور پر اونٹ کے جسم کے بال یا روئیں جھڑ جاتے ہیں۔

مختلف علاقوں میں اونٹوں کے بالوں کی کٹنگ اور ڈیزائن بنانے کی ٹائمنگ الگ الگ ہے۔ جیسے تھر، چولستان اور بھارت کے راجستھان میں عموماً دسمبر کے آخری ہفتے سے جنوری کے اواخر تک یہ سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔

راجستھان میں تو یہ دن دراصل اونٹ میلے کے ہوتے ہیں، جس میں ملک بھر سے اونٹ اور اونٹنیاں لائی جاتی ہیں۔ یہ میلہ جہاں ایک بڑی معاشی سرگرمی ہوتی ہے، وہاں یہ بہت بڑی سیاحتی اٹریکشن بھی ہے، جس میں دنیا بھر سے شائقین آ کر شریک ہوتے ہیں اور خوب لطف حاصل کرتے ہیں۔

پاکستان کے سندھ اور پنجاب کے صحرائی علاقوں میں اونٹوں پر ڈیزائن کاٹنے کا ہنر عید الاضحیٰ سے کچھ دن پہلے آزمایا جاتا ہے، کیونکہ عیدِ قرباں کے موقع پر ان جانوروں کی فروخت عروج پر ہوتی ہے اور خوبصورت ڈیزائن والے اونٹ زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔

اگر یہ بڑی عید، قمری کیلنڈر کے حساب سے گرمیوں میں آتی ہے تو اس کا خیال رکھتے ہوئے اونٹوں کے مالکان پہلے ہی سے کاریگروں سے رابطہ کر لیتے ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں جانوروں کے روئیں جھڑنے کا قوی امکان ہوتا ہے تو پھر کیا کیا جائے؟

کاریگر یعنی نائی اس پر کئی ماہ پہلے ہی سے ایڈوانس بکنگ کر کے اونٹوں کے بدن پر اپنے تیار کردہ خاص تیلوں کی مالش شروع کر دیتے ہیں۔ ان تیلوں کی خاصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ اس سے گرمیوں کے باوجود بال نہیں جھڑتے یا کم جھڑتے ہیں۔

کاریگر، اونٹ کی جسامت اور اس کی قدرتی رنگت کے لحاظ سے بھی ڈیزائن بنانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چھوٹی جسامت رکھنے والے اونٹ کے جسم پر چھوٹے چھوٹے پیٹرن اور نفیس نمونوں والے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں، جبکہ بڑے اور دیو قامت اونٹوں کے بدن پر ان کے قد و قامت کے حساب سے بڑے بڑے سائز کے نمونے بنائے جاتے ہیں۔

اونٹوں کے جسم پر اتنی محنت اور کاریگری سے ڈیزائن بنانے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟

’سائیں! گاہک جو ہوتا ہے نا، وہ قربانی کے لیے اچھے سے اچھا جانور خرید کر لے جانا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ اس کی ’سُونہں‘ (حسن) اور سجاوٹ پہلے دیکھتا ہے۔ اس لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ اپنے جانوروں کو خوبصورت بنا کر، اس کا ’ بناؤ سنگار‘ کر کے منڈی میں لے جائیں۔ اس میں چار پیسے اچھے مل جاتے ہیں۔‘

اکبر علی جیکب آباد کے دیہی علاقے کا جٹ یعنی اونٹ کی پرورش کرنے اور ان سے کام لینے والا سادہ لوح بندہ تھا۔ مویشی منڈی میں اس کے اونٹ بقول شخصے ’بہت رش لے رہے تھے‘! اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ اکبر علی کے اونٹوں کے جسم پر بہت شاندار نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ اس نے ایک کاغذ پر کسی سے خصوصی ’اشتہار‘ لکھوا کر سامنے لٹکا رکھا تھا، جس پر یہ پیشکش درج تھی کہ  ’جو بھی سائیں اونٹ خریدے گا، اس کی فرمائش پر اس کا نام بھی ہم اونٹ پر لکھوا کر دے گا۔ بحکم: اکبر علی بلوچ‘

ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ اتنے خوبصورت ڈیزائن وہ خود بناتے ہیں؟

’اڑے سائیں! ہم تو چٹے ان پڑھ ہیں۔ ہم ایسے ’ڈیزین‘ کیسے بنا سکتے ہیں؟ یہ ہمارے علاقے میں کاریگر یعنی حجم (نائی) ہوتا ہے، وہ پیسے لے کر بنا کر دیتا ہے۔ اس کو ہم ادھر کراچی بھی لے کر آئے ہیں۔ اگر کوئی گاہک ہم سے اونٹ کا سودا کرے گا، ہم اس کے بولنے پر اس کا نام اونٹ پر لکھوا کر دیں گے۔‘

’پین سے تو وہ خود بھی لکھ سکتا ہے!‘ وہاں کھڑے ایک تماشائی نے مذاق کیا، جس پر اکبر علی ناراض ہو گیا ’کیا بولتے ہو سائیں! نائی علی مراد کوئی ماسٹر تو نہیں ہے جو وہ پین سے نام لکھے گا اور ہم اس کو مزدوری میں ہزار روپیہ دے دیں گے۔

بابا! وہ اپنی قینچیوں، استرے اور اوزاروں سے اونٹ کی ’ڈاس‘ یعنی کہ بال کاٹ کاٹ کر یہ ڈیزین بناتا ہے اور نام بھی اسی طریقے سے بال کاٹ کاٹ کر لکھتا ہے۔۔۔ یہ بولتا ہے کہ پین سے نام لکھے گا۔۔۔ پاگل!‘

اونٹوں پر یہ حسین گل کاری زیادہ تر علاقوں میں قینچی سے کی جاتی ہے، مگر کچھ خطوں میں یہ کام گرم ’کاویے‘ یعنی ٹانکا لگانے والی سولڈرنگ جیسے ایک الیکٹرک آلے سے بھی کیا جاتا ہے۔ مگر اس آخر الذکر طریقے سے بیچارے جانور کو بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ یوں جلد بھی جل اٹھتی ہے۔ صحرائی ساربان یا اونٹ پالنے والے اپنے جانوروں سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں، اس لیے وہ روئیں جلا کر ڈیزائن بنانے والے اس طریقے کو پسند نہیں کرتے، حالانکہ یہ سستا بھی پڑتا ہے۔

ہر سال عیدِ قرباں سے ایک ماہ پہلے کراچی میں سجنے والی مویشی منڈی میں تقریباً 2 ہزار اونٹ فروخت کے لیے لائے جاتے ہیں۔

ان میں سے صرف 50 یا 60 اونٹ ایسے ہوتے ہیں، جن کے جسم پر گل کاری یا نقش و نگار بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اکثر تاجر دیہات سے دوسرے لوگوں کے اونٹ اور مویشی (بشرطِ فروخت) منافع میں حصے یا کمیشن کی بنیاد پر لے آتے ہیں۔

انہیں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ تمام جانور بک نہیں پائیں گے، اس لیے وہ ان پر اضافی خرچہ کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔ جو تاجر سجے سجائے اور کٹنگ والے اونٹ لے آتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ عام اونٹ کے مقابلے میں انہیں تقریباً 40  یا 50 ہزار روپے زیادہ مل جاتے ہیں۔

گل کاری کا طریقہ اور ڈیزائن

کوئی بھی کاریگر کسی اونٹ پر ڈیزائن کا کام شروع کرنے سے پہلے فیتے سے اس کے دونوں جانب کی ناپ یا پیمائشیں لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ کچی ڈرائنگ کے لیے پرکار نما ایک سوئے سے لکیریں کھینچتا ہے۔

ان میں مرکزی لکیر محراب نما ہوتی ہے۔ اس کے نیچے عموماً ایک دائرہ کاٹا جاتا ہے۔ اس دائرے کے اندر چوکور، اریبی (مکعب)، 6 اور 8 گوشیہ ستارے، پھلی کے نمونے اور جیومیٹری کے دیگر نمونے بنائے جاتے ہیں۔

یہ ڈیزائن بھی ٹرک آرٹ کی طرح بہت زیادہ تنوع رکھتے ہیں۔ ان میں جو زیادہ مقبول ہیں، ان میں پھول، درخت، جانور، اجرک، غالیچہ یا قالین، مختلف ساز، مینارِ پاکستان، مساجد، پہاڑ، تیر کمان اور اونٹ کی اپنی شبیہ شامل ہوتی ہے۔

گل کاری یا تمام ڈیزائن جب مکمل ہو جاتے ہیں تو پھر رنگائی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے لیے اکثر مہندی استعمال کی جاتی ہے۔ مہندی کہیں ہلکی استعمال ہوتی ہے تو کہیں کچھ اقلیدسی نمونوں کو نمایاں کرنے کے لیے اس میں تھوڑا کالا رنگ ملا دیا جاتا ہے۔

اس گل کاری سے ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اس کے ڈیزائن، قدیم وادیِ سندھ کے تہذیبی مراکز موئنجو دڑو اور ہڑپہ سے ملنے والی چیزوں پر موجود ڈیزائنوں جیسے ہی ہیں اور کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ یہ دیہی فنکار ہزاروں سال قدیم فن کو اب تک نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اسے آگے بھی بڑھا رہے ہیں؟

ساہیوال کے ایک لکھاری اور شوقیہ فوٹو گرافر ملک شفیق انجم سماجی اور ثقافتی موضوعات پر بہت پیارے مضامین لکھتے ہیں۔ اونٹوں کے جسم پر گل کاری کے حوالے سے وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ پنجاب کے کئی شہروں میں اونٹ منڈیاں لگتی ہیں۔

ان میں ساہیوال کے قریب قصبہ کمیر کی منڈی بہت شہرت رکھتی ہے۔ یہ منڈی، حضرت محمد پناہ کے سالانہ عرس کے موقع پر ہر سال مارچ کے آخری دن سے اپریل کے پہلے ہفتے تک لگائی جاتی ہے۔

یہاں اونٹ خریدنے والوں میں صرف ملکی تاجر ہی نہیں بلکہ عرب تاجر بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر 50 یا 55 شتر کاترے (فنکار) اونٹوں کی کھال پر گل کاری کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ میلہ شتر کاتروں کے فن کے اظہار کا حقیقی مرکز ہوتا ہے۔ ان کی گل کاری والے اونٹ نہ صرف پورے پاکستان بلکہ عرب ممالک میں بھی فروخت ہوتے ہیں۔

اونٹوں کے بال کاٹ کر ڈیزائن بنانے کا کام کرنے والے کاریگر محمد ابرار بتاتے ہیں کہ پرانے دور میں یہ کام، زیادہ تر بلوچ قبائلی لوگ کیا کرتے تھے۔

بعد میں پٹھان، چوڑی گر اور تھر اور چولستان کے باسی بھی گل کاری کا کام کرنے لگے۔ اس کام کی انفرادیت یہ ہے کہ ہر قبیلے اور ہر علاقے میں کام کا انداز الگ الگ ہے۔ بیشتر مالکان اپنے اونٹوں کے جسموں پر پھول بنواتے ہیں، کچھ اپنا نام لکھواتے ہیں اور کئی شائقین اونٹ کے جسم پر اونٹ ہی کی شبیہ بنواتے ہیں۔

اس فن کا معاوضہ یا اجرت، محنت اور کام کے حساب سے ہوتی ہے۔ پھول بنوانے کی فیس 4 ہزار سے 7 یا 8 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔ اپنا نام لکھوانے کی اجرت تقریباً ایک ڈیڑھ ہزار روپے سے لے کر 3 ہزار روپے ہوتی ہے۔ یہ نام کی لمبائی پر منحصر ہوتا ہے۔ اونٹ پر اونٹ ہی کی تصویر بنانے کا معاوضہ 10 ہزار روپے بھی ہو سکتا ہے۔

پھول بنانے میں 2 دن لگ جاتے ہیں اور اونٹ کی تصویر بنانے کے لیے 4 سے 5 دن لگ سکتے ہیں۔ اونٹوں پر گل کاری کا یہ کام اس علاقے میں صرف میلے کے دنوں میں ہوتا ہے۔

باقی پورا سال یہ کاریگر دوسری محنت مزدوری کر کے گزارہ کرتے ہیں۔ عرب تاجر ان کے فن سے خوش ہو کر انعام بھی دے جاتے ہیں۔ ایک اور فنکار کہتے ہیں کہ وہ کئی سال سے میلے میں آ رہے ہیں اور ہر سال تقریباً 50 سے 70 ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ پاکستان کے شتر کاتروں کے پاس اپنے فن کے اظہار اور کمائی کے لیے اس میلے کے علاوہ اور کوئی موقع نہیں ہے۔

اونٹوں کا مقابلہِ حسن

مشرقِ وسطیٰ میں اونٹ کی اہمیت دنیا کے باقی علاقوں سے زیادہ تسلیم کی جاتی ہے۔ سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں ہر سال شاہ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول منعقد ہوتا ہے، جس میں پورے عرب خطے سے شائقین اپنے اونٹ لے کر شریک ہوتے ہیں۔

اس میلے میں ہونے والا اونٹوں کا مقابلہِ حسن دنیا بھر میں مشہور ہے اور ہزاروں سیاحوں کو فقط اسی مقابلے کی کشش کھینچ کر ادھر لے آتی ہے۔ اس میلے کے سرکاری ترجمان سلطان البقامی کہتے ہیں کہ عرب دنیا میں اونٹوں کی سجاوٹ اور ان کے بدن پر ڈیزائن بنوانے کی روایت ہزاروں سال پرانی ہے۔ خاص خاص مواقع پر تو یہ کام باقاعدہ ایک مقابلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

ہر اونٹ والے کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے اونٹوں کو سجانے سنوارنے کے لیے سب سے اعلیٰ اور مہنگا آرٹسٹ دستیاب ہو۔ اس مقابلے میں چیف جج کے فرائض انجام دینے والے فوزان المدی کہتے ہیں کہ اس منفرد مقابلہِ حسن میں حصہ لینے کے لیے اونٹ کے رنگ یا اس کے قد و قامت کی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے اس کا ’شجرہ‘، حسب نسب اور اصل نسل دیکھی جاتی ہے۔

باقی شرائط بعد میں ملحوظ رکھی جاتی ہیں۔ اس کے لیے مقابلے میں شامل کیے جانے والے اونٹوں کو 6 ماہ تک جانچا پرکھا جاتا ہے اور اسی سخت جانچ پڑتال کے نتیجے میں طے ہوتا ہے کہ کون سا اونٹ مقابلے میں حصہ لے گا اور کون کون سے اونٹ ذبیح ہونے کے لیے بیچے جائیں گے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کی عبوری ضمانت میں 28 جولائی تک توسیع

وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کی امیر قطر سے ملاقات، شیخ حمد بن خلیفہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار

انجلینا جولی کی بیرونِ ملک منتقلی کیوں کھٹائی میں پڑ گئی؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی

سندھ ہائیکورٹ نے نائلہ رند خودکشی کیس میں عمر قید پانیوالے ملزم کو بری کر دیا

بھارت: 14 افراد کو عمر قید سنانے والی مسلمان خاتون جج  کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیاں

ویڈیو

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت بنانے جارہی ہے، وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے، محمد حنیف ملک

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

کیا آپ اپنے دماغ کو پھر سے جوان کر سکتے ہیں؟