وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیوں اور نئے و نوجوان چہروں کی شمولیت پر غور شروع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے قریبی رفقا سے مشاورت مکمل کر لی ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
کابینہ میں کئی اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں تبدیل کیے جانے پر بھی غور جاری ہے۔ موجودہ وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی کو وفاقی وزیر کے عہدے پر ترقی دے کر وزارتِ تجارت سونپے جانے کا امکان ہے، جبکہ وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک کو بھی وفاقی وزیر بنایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے جانی نقصان پر اظہارِ افسوس
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو وزارتِ خزانہ کا قلمدان سونپنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ وہ نائب وزیراعظم کے عہدے پر بھی برقرار رہیں گے۔ اسی طرح محسن نقوی کو وزارتِ خارجہ اور رانا ثنا اللہ کو وزارتِ داخلہ دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کابینہ میں نئے چہروں کی شمولیت کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی رکنِ قومی اسمبلی نوشین افتخار کا نام زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ ضمنی انتخاب میں عمر ایوب کی خالی نشست سے کامیاب ہونے والے بابر نواز کو بھی وزیرِ مملکت بنانے کی تجویز پر غور جاری ہے۔
نوجوان رہنما اسامہ سرور کو وزیرِ مملکت برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان مقرر کیے جانے کا بھی امکان ہے، جبکہ دیگر چند ارکانِ اسمبلی کو بھی مختلف وزارتیں یا وزارتِ مملکت دیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بعض کم اہم وزارتوں سے وزرائے مملکت کو فارغ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ وفاقی کابینہ کے مجموعی حجم کو کم کرنے اور قومی خزانے پر بوجھ میں کمی لانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بعض وفاقی وزارتوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے۔ خصوصاً وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت و پیداوار اور وزارتِ آبی وسائل کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، وزیراعظم کے پاس تمام وزرا کی 2 سالہ کارکردگی کی رپورٹ بھی موجود ہے جس میں وزرا اور وزارتوں کی کارکردگی کی تفصیل شامل ہے۔
برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے پر وزیراعظم نے تشویش کا اظہار کیا، جبکہ چاول، آلو اور پھلوں کی برآمدات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔ کمزور کارکردگی والی وزارتوں کی خامیاں دور کرنے، اصلاحات متعارف کرانے اور کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے لیے عملی اقدامات پر غور جاری ہے۔
کابینہ میں متوقع ردوبدل، نئی وزارتوں کی تقسیم اور تقرریوں سے متعلق مشاورت تاحال جاری ہے، جبکہ حتمی فیصلے اعلیٰ سطح مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیے جائیں گے۔














