امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران میں 5 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کے مطابق حملوں میں ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ تجارتی بحری جہازوں کو خطرہ پہنچا سکتا ہے۔
امریکی کمانڈ نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں۔
امریکا کا سمندری ڈرونز کا پہلا جنگی استعمال
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی بغیر پائلٹ کشتیوں نے ایرانی بحری مرمت مرکز اور آبدوز کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے جنگی کارروائی میں سمندری ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔ یہ کارروائی ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود سامنے آئی کہ ایران کی بحری طاقت تباہ ہو چکی ہے۔
ایران میں مزید دھماکوں کی اطلاعات
ایران کے جنوبی علاقوں میں امریکی حملوں کے بعد مزید دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس، چابہار، کنارک، جزیرہ ابو موسیٰ، قشم اور دیگر علاقوں میں دھماکے سنے گئے۔
ایرانی صوبوں بوشہر اور خوزستان میں بھی حملوں کی اطلاعات ملیں، جہاں اہم توانائی تنصیبات موجود ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اومیدیہ شہر میں امریکی حملے کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد زخمی ہوئے۔
ایران کا جوابی حملوں کا دعویٰ
بین الاقوامی میڈیا نے ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے کے اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں ایندھن کے امریکی ذخائر، پیٹریاٹ ریڈار، فضائی نگرانی کے نظام اور بغیر پائلٹ بحری جہازوں کے کنٹرول مرکز کو نقصان پہنچایا گیا۔ ایران نے کہا کہ اس کی ’جوابی کارروائی‘ جاری ہے۔
پاسداران انقلاب نے بحرین کے الجفیر اڈے پر امریکی اسلحہ ذخائر، سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی فوجیوں کی عمارت کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ایران کا تیل بردار جہازوں پر حملے کا دعویٰ
الجزیرہ کے مطابق ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب نے 2 تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ جہاز امریکی دباؤ پر راستہ تبدیل کر رہے تھے۔ انہوں نے نیوی گیشن نظام بند کر رکھا تھا۔ ایران کے مطابق بار بار انتباہ کے باوجود جہازوں نے راستہ نہیں بدلا، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے الزام لگایا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب اس کے 2 تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جس میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک ہوا۔
امریکی حملوں نے ایران کو بڑی حد تک ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دیا، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں نے تہران کی فوجی طاقت کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے اور ایران کو ’بڑی حد تک پتھر کے دور‘ میں واپس پہنچا دیا ہے۔
ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے نیوز میکس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقت بڑی حد تک ختم کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کچھ صلاحیتیں اب بھی موجود ہیں، لیکن اس کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس موجود 159 بحری جہاز تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ اس کے 200 طیارے، ریڈار نظام، فضائی دفاعی نظام اور ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کی ہتھیار سازی کی صلاحیت تقریباً 84 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ 4 ماہ کے دوران ایران پہلے جیسا ملک نہیں رہا اور اسے ایک مختلف دور میں دھکیل دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ میزائل اور محدود فوجی صلاحیت موجود ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو مشرق وسطیٰ کا ’غنڈہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران انہیں دباؤ میں نہیں لا سکتا۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ
ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا کو آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور آبنائے ہرمز کا ’نگہبان‘ بننے پر غور کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک اہم حکمت عملی کا حصہ ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ماہر الیکس وٹانکا کے مطابق امریکا یہ امید کر رہا ہے کہ مسلسل دباؤ سے ایران مذاکرات پر واپس آئے گا، تاہم یہ حکمت عملی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ایران دباؤ کے جواب میں اکثر مزاحمت اور جوابی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک اہم دباؤ کا ذریعہ بن چکی ہے اور تہران اسے اس وقت تک استعمال کرتا رہے گا جب تک سفارتی حل کا امکان موجود ہے۔













