وزیراعظم کا ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کا حکم، کیش لیس معیشت کے فروغ پر زور

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

وزیراعظم شہباز شریف نے ترسیلات زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیش لیس معیشت کے فروغ پر زور دیا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ملک میں ڈیجیٹل لین دین کے فروغ اور نقدی کے استعمال میں کمی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مبنی کیش لیس نظام کی طرف منتقل کرنے میں پیش رفت پر معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن قوانین میں اصلاحات ضروری، شزا فاطمہ

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعظم نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے کیو آر کوڈ استعمال کرنے والے فعال تاجروں کی تعداد میں ایک سال کے دوران 300 فیصد اضافے پر معاشی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ تاجروں کو کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم مزید مؤثر بنائی جائے، جبکہ بیرون ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ ہونا ایک اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ کیش لیس معیشت کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ڈیجیٹل معیشت میں بڑی تبدیلی کی راہ پر گامزن ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے سہل قرار دیتے ہوئے سراہا۔

اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 تک ڈیجیٹل طریقے سے ادائیگیاں وصول کرنے والے تاجروں کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد بڑھ کر 20 لاکھ 3 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ہو چکی ہیں، جبکہ نقد ادائیگیوں کا تناسب 71 فیصد سے کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ صارفین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل بٹووں کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جبکہ موبائل بینکنگ ایپ صارفین کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقتصادی پیشرفت کے لیے ڈیجیٹل معیشت اہمیت کی حامل ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 11 ارب 90 کروڑ ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال کے دوران بیرون ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کا 92 فیصد حصہ ڈیجیٹل طریقے سے موصول ہوا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کیش لیس معیشت کے حوالے سے تیسرے فریق کی جانچ جاری ہے، جس کی حتمی رپورٹ سفارشات کے ساتھ نومبر 2026 میں پیش کی جائے گی۔

پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنے رکن بینکوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں، بشمول راست نظام کے فروغ کے لیے اہداف بھی دیے ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد، چیئرمین نادرا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسلام آباد تینوں ممالک کے پرچموں اور برقی قمقموں سے جگمگا اٹھا

حکومت کا بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جماعت اسلامی نے 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا، پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی نئی تاریخ کا اعلان

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ’ایسٹرا‘ میں خطرناک سیکیورٹی خدشات کا انکشاف، ڈیولپنگ کام عارضی معطل

میر رضا علی کیس: پولیس تفتیش کے بجائے خاندان کو ہراساں کررہی ہے، وکیل نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر